’سعودی عرب کی طرف بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا‘

عرب اتحادی افواج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جولائی 12:46

’سعودی عرب کی طرف بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا‘
 ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 3 جولائی 2020ء) عرب اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف اٹھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔عرب اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے پہلے حوثی ملیشیا کو ہزار مرتبہ سوچنا ہوگا، دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا ہے کہ شہری ا?بادی اور مقامات سرخ لکیر ہیں، ہم انہیں نشانہ بنانے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا کو مختلف نوعیت کے میزائل فراہم کر کے علاقائی امن سبوتاڑ کرنے کے درپے ہے۔ اتحاد نے حوثی ملیشیا کے لیے ایرانی ڈکٹیشن کو مسترد کرتا ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ یمنی فوج نے 45 روز تک جنگ بندی کی پابندی کی جبکہ حوثی ملیشیا نے اس کی پاسداری نہیں کی۔

(جاری ہے)

45 دنوں کے دوران حوثی ملیشیا کی جانب سے فائر بندی کی 4276 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

سعودی فوج کے دفاعی نظام نے حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے 118 بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی سعودی عرب کے سرحدی علاقوں نجران اور جازان کے علاوہ ریاض کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ حوثی باغیوں کی جانب سے ایک ہی رات میں تین شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حوثی باغیوں نے ریاض کے علاوہ نجران اور جازان پر بھی میزائلوں اور بارود بردار ڈرونز سے حملے کیا گیا، جنہیں ناکام بنا دیا گیا ہے۔

اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا تھاکہ حوثی باغیوں نے ریاض کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل حملہ کرنے کی کوشش کی ہے جسے ناکام بنادیا گیا ہے۔حوثی ملیشیا نے یمن کے شہر صعدہ سے میزائل داغا جس کا نشانہ شہری آبادی تھای، تاہم سعودی افواج نے اسے فضا میں ناکارہ بنا دیا ہے۔ حوثی باغیوں نے 8 میزائل اور تین بارود بردار ڈرون حملے بھی کیے ہیں، ان سب کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔کرنل تُرکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے ریاض کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا تھا، جسے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی فضائیہ نے تباہ کر دیا جس کے باعث قیمتی جانیں اور اثاثے محفوظ رہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments