سعودیہ میں مقیم پاکستانی اپنا کفیل کیسے بدل سکتے ہیں؟

اگر کفیل اپنے کارکن کی ہروب کی غلط رپورٹ کرائے، آجر مسلسل تین ماہ تک تنخواہیں ادا نہ کرے اور کارکن کا اقامہ یا ورک پرمٹ ختم ہو جائے تو وہ نقل کفالہ کرا سکتا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ 4 جولائی 2020 13:18

سعودیہ میں مقیم پاکستانی اپنا کفیل کیسے بدل سکتے ہیں؟
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 4 جولائی 2020ء) سعودی عرب میں بیشتر پاکستانی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے کفیل کے ہاتھوں تنگ ہوتے ہیں، اور ان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ نقل کفالہ یعنی کفیل کی تبدیلی کرا لیں۔ اس حوالے سے سعودی وزارت برائے افرادی قوت نے وضاحت کی ہے کہ تارکین وطن اپنے کفیل کی منظوری کے بغیر بھی نقل کفالہ کرا سکتے ہیں۔ جو کہ تین صورتوں میں ممکن ہے۔

اُردو نیوز کے مطابق وزارت افرادی قوت نے’العنایہ بالعملا‘ ایپ کے ذریعے بیان میں کہا کہ ان تین صورتوں میں اول یہ ہے کہ کارکن اقامہ اور ورک پرمٹ ختم ہوگیا ہو۔ دوم اگرآجر نے مسلسل تین ماہ تک اجیر کی تنخواہ ادا نہ کی ہو۔سوم اگر کارکن کی ’ہروب‘ کی رپورٹ کی بابت یہ ثابت ہوجائے کہ دھوکہ دہی کے طور پر کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

سعودی عرب میں ورک ویزے پر مقیم غیر ملکی کیلیے لازم ہے کہ جس کمپنی یا شخص کا ویزا ہواسی پرکام کریں، کسی دوسری جگہ ملازمت کرنیوالے خلاف ورزی کے مرتکب قرار پاتے ہیں۔

وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کی جانب سے اجر اور اجیر کویہ سہولت دی گئی ہے کہ اگر کوئی کارکن اپنے آجر کی مرضی سے دوسری جگہ کام کرے تو وہ کفالت تبدیل کرائے جسے قانونی اصطلاح میں ’نقل کفالہ ‘کہا جاتا ہے۔نقل کفالہ کی فیس مقرر ہے پہلی مرتبہ کفالت کی تبدیلی پر 2 ہزار دوسری مرتبہ 4 اور تیسری مرتبہ 6 ہزار ریال ہے جس کے بعد قانونی طور پر کارکن اس بات کا مجاز ہوگا کہ وہ کام کرسکے۔

نقل کفالہ کیلیے وزارت افرادی قوت کے قوانین میں وضاحت کی گئی ہے کہ ایسے کارکن جو اس امر کا ثبوت پیش کریں کہ ان کے آجر کی جانب سے ورک پرمٹ اور اقامہ تجدید نہیں کرایا گیا اور ان کی سابقہ کمپنی ریڈ زون میں ہوتو انکا نقل کفالہ فوری طورپر کردیاجاتا ہے۔دوسری صورت اگر کارکن اس بات کا ثبوت پیش کرے کہ آجر کی جانب سے مسلسل 3 ماہ تک اسے تنخواہ ادا نہیں کی گئی (یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ قانون کی رو سے تمام کمپنیاں اس امر کی پابند ہیں کہ کارکنوں کو بینک کے ذریعے تنخواہ ادا کریں اور ثبوت کے طور پر کارکن بینک سے تنخواہ کا ریکارڈ حاصل کرسکتے ہیں)۔

نقل کفالہ کی تبدیلی کے لیے تیسری صورت غلط ’ہروب‘ کی ہے۔اگر لیبر آفس اس بات پر قائل ہو جائے کہ آجر کی جانب سے’ ہروب‘ غلط لگایا گیا ہے تو کارکن کا ہروب کینسل کرکے اسے کفالت کی تبدیلی کا حکم دیاجائے گا۔وزارت کے مطابق یہ تین صورتیں ایسی ہیں جن میں اجیر اپنے آجر کی منظوری کے بغیرنقل کفالہ کراسکتا ہے۔ قانون محنت میں یہ سہولت اجیروں کو مہیا ہے۔

اس حوالے سے آجر کا اعتراض ناقابل قبول ہوگا۔اُردو نیوز کے مطابق یہاں ایک امر کی نشاندہی ضروری ہے جس کے بارے میں اکثر تارکین لاعلم ہیں وہ یہ کہ مملکت آنے والا کوئی بھی غیر ملکی جس ویزے پر آتا ہے تو اس کا ریکارڈ لیبرآفس اور محکمہ پاسپورٹ میں رہتا ہے۔اس لیے اس صورت میں جب کہ کارکن کفالت تبدیل کرکے کسی دوسرے کفیل کے پاس کام کررہا ہو اور وہ کارکن کو مجبور کرکے کہ اس کا فائنل ایگزٹ لگا دے گا تو یہ قانونی طور پرغلط ہے اس صورت میں بھی کارکن لیبر آفس سے رجوع کر سکتا ہے کیونکہ وہ مملکت اس کفیل کے ویزے پر نہیں آیا بلکہ اس نے موجودہ کفیل کے پاس صرف کفالت تبدیل کی ہے۔

اس صورت میں کفیل ایک ہی سبب سے خروج لگا سکتا ہے کہ اگر کارکن کے خلاف جرم کا کوئی ثبوت ہو اور عدالت نے اسے مجرم قرار دیا ہو۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں