سعودی ماں بیٹی نے تعلیمی میدان میں انوکھی تاریخ رقم کر دی

عیدہ الرشیدی اور ان کی بیٹی اریج نے ایک ہی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر اکٹھے گریجوایشن کی ڈگری حاصل کر لی

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ 2 جون 2021 14:02

سعودی ماں بیٹی نے تعلیمی میدان میں انوکھی تاریخ رقم کر دی
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔2 جون 2021ء) انسان میں اگر تعلیم حاصل کرنے کی لگن اور چاہت ہو تو پھر چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، کسی بھی عمر میں بھاری ذمہ داریوں کے ساتھ بھی تعلیم حاصل کر ہی لیتا ہے۔ سعودی عرب میں بھی ایک خاتون نے جو ایک بیٹی کی ماں ہی نہیں، بلکہ نانی بھی بن چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے تعلیم کے شوق کو پورا کرنے کی خاطر بیٹی کے ساتھ مل کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق سعودی ضلع ثادق سے تعلق رکھنے والی بزرگ خاتون اور ان کی بیٹی نے ایک ہی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر اکٹھے گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد ڈگری حاصل کر لی ہے۔ یہ منفرد اعزاز حاصل کرنے والی خاتون کا نام عیدہ الرشیدی اور ان کی بیٹی کا نام اریج ہے۔ دونوں ماں بیٹی نے شقراء یونیورسٹی سے ایک ہی وقت میں اپنی گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔

(جاری ہے)

اریج نے بتای کہ انہوں نے اپنی انٹرمیڈیٹ کی پڑھائی مکمل تو والدہ کو بھی زور دیا کہ وہ اس کے ساتھ ہی شقراء یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں۔ دونوں مل کر اکٹھے گریجو ایشن کر لیں گی۔ اور اس وقت اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب والدہ نے ہامی بھر لی۔ اسے یقین تھا کہ اس کی والدہ علم سے محبت رکھنے والی پُرعزم خاتون ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کی تعلیم پر ہمیشہ بہت توجہ دی اور ان کی تعلیمی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتی رہی ہیں۔

اریج کی والدہ عیدی الرشیدی نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے زور دینے پر یونیورسٹی میں داخلے کا فارم جمع کرایا تھا۔ جس کے بعد انہیں اپنے ثادق شہر میں ہی قائم شقراء یونیورسٹی کے ضلعی کیمپس میں داخلہ مل گیا تھا جب اریج کو حریملا کے علاقے میں واقع شقراء یونیورسٹی کے کیمپس میں داخلہ ملا۔ عیدہ الرشیدی کی ایک بیٹی شادی شدہ اور بچوں کی ماں ہے۔ اس لحاظ سے عیدہ نے ایک بیوی، والدہ، نانی کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بھی بطور یونیورسٹی طالبہ اپنی قابلیت منوا لی ہے جس کا اظہار انہیں دی جانے والی گریجوایشن ڈگری کی صورت میں ہوتا ہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments