سعودی عرب نے خواتین پر تمام شعبوں کے دروازے کھول دیئے

خواتین کا ملازمتوں میں حصہ 30 فیصد تک مقرر کر دیا گیا، پہلی بار ایک خاتون اہلکار نے حج انتظامات سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دی

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ 24 جولائی 2021 10:04

سعودی عرب نے خواتین پر تمام شعبوں کے دروازے کھول دیئے
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24 جولائی 2021ء ) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مملکت کو ایک اعتدال پسند اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم پر کاربند ہیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ویژن 2030 پیش کیا۔ اس ویژن کے تحت سعودی خواتین کو لاکھوں کی گنتی میں نوکریاں دی جا رہی ہیں۔ دُنیا بھر کے اہم اداروں نے بتایا ہے کہ سعودی خواتین کو وہ حقوق حاصل ہو رہے ہیں جو انہیں کئی صدیوں سے حاصل نہیں تھے۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ ویژن 2030 کے تحت لیبرمارکیٹ میں خواتین کی شمولیت کو 22 فی صد سے بڑھا کر 30 فی صد کیا جائے گا۔العربیہ نیوز کے مطابق اس ویژن کے تحت مملکت میں کاروبار کرنے والے ادارے اور فرمیں سعودی شہریوں کو زیادہ تعداد میں ملازمتیں دینے کے پابند ہیں اور بہت سی ملازمتیں اور اُجرتی کام صرف سعودی شہریوں کے لیے مخصوص کیے جارہے ہیں اور سعودی خواتین کو بھی ملازمتیں دی جارہی ہیں۔

(جاری ہے)

یوں مملکت کی افرادی قوت میں ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔امریکا کے بروکنگزانسٹی ٹیوشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی افرادی قوت میں 2018ء سے2020 تک برسرروزگار خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی بالغ خواتین میں سے 20 فی صد برسرروزگار تھیں یا 33فی صد کے لگ بھگ ملازمت کی تلاش میں تھیں۔اس نے مزید کہا ہے کہ سعودی عرب میں اصلاحات کے نتیجے میں خواتین اب ایسے شعبوں میں بھی ملازمتیں حاصل کررہی ہیں،جن کے دروازے پہلے ان پر بند تھے،ان میں دفاع، کان کنی ، تعمیرات اور مینوفیکچرنگ ایسے شعبے شامل ہیں۔

بروکنگز کے جائزے کے عرصے دوسال کے دوران میں سعودی خواتین کی ملازمتوں کی شرح 68 فی صد سے بڑھ کر 76 فی صد ہوگئی تھی۔نجی شعبے میں ملازم خواتین کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔فوڈ انڈسٹریز میں 40 فی صد جبکہ تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بالترتیب 9 اور 14 فی صد اضافہ ہوا ہے۔2019 ء کے آغاز سے 2020ء کے اختتام تک سرکاری شعبے میں ملازمت اختیار کرنے والی خواتین کی تعداد میں پانچ فی صد اضافہ ہواتھا۔

اب خواتین کو مختلف شعبوں میں کلیدی ذمہ داریاں سونپی جارہی ہیں۔گذشتہ ہفتے ہی خاتون وکیل ابرارشاکرکو فلِج (ایف ایل آئی جی) فٹ بال کلب کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔وہ مملکت میں کسی فٹ بال کلب کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔ سعودی معاشرے میں خواتین اب ان شعبوں میں بھی آگے آرہی ہیں اور انھیں اہم ذمے داریاں سونپی جارہی ہیں جہاں ماضی میں بالعموم مردوں کی بالادستی یا اجارہ داری رہی ہے۔

اس ضمن میں گذشتہ منگل کوایک اوراہم پیش رفت دیکھنے کو ملی تھی جب ایک خاتون فوجی افسرعبیرالراشد نے سعودی خواتین پرمشتمل حج کی سکیورٹی فورسز کی پہلی میڈیا بریفنگ دی تھی۔انھوں نے اس مرتبہ 17 سے 22 جولائی تک حج کے لیے سکیورٹی اور ٹریفک کے انتظام کی حکمت عملی سے متعلق بریفنگ دی تھی۔اس مرتبہ کووِڈ-19 کی وباکو پھیلنے سے روکنے کے لیے صرف 60 ہزار عازمین نے فریضہ حج ادا کیا ہے۔قبل ازیں رمضان المبارک کے دوران میں بہت سی خاتون پولیس افسروں نے مکہ مکرمہ میں عمرہ زائرین کے لیے خدمات انجام دی تھیں۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments