سعودی عرب میں سیاحوں کے لیے بادلوں میں گھرا خطرناک پُل قائم ہو گیا

الباحہ کی وادی میں 100 میٹر بلند یہ معلق پُل عبور کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل 27 جولائی 2021 10:49

سعودی عرب میں سیاحوں کے لیے بادلوں میں گھرا خطرناک پُل قائم ہو گیا
ریاض (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔27جولائی2021ء ) سعودی عرب اپنی معیشت کو مضبوط تر بنانے کی خاطر سیاحت کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ مملکت میں ہر سال مذہبی زائرین کے علاوہ سیر و تفریح کے لیے بھی لاکھوں افراد آ سکیں۔ اس حوالے سے یہاں پر سیاحتی مقامات پر نت نئی دلچسپی پیدا کی جا رہی ہے۔ ایسا ہی ایک دلچسپی کا مرکز پہاڑوں کے دامن میں قائم معلق پُل ہے جس نے دُنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

العربیہ نیوز کے مطابق سعودیہ کے جنوب میں پہاڑوں کے دامن میں ہوا میں معلق آہنی رسوں اور لکڑی سے بنا پْل ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز ہے۔یہ پل جہاں سیاحت کے عشاق کے لیے ایک پسندیدہ مقام ہے وہیں یہ بہت سے لوگوں کے لیے اپنی ساخت کے اعتبار سے ایک مہم جوئی سے کم بھی نہیں کیونکہ اس پل کو عبور کرنا دل گردے کی بات ہے۔

(جاری ہے)

بادلوں اور دھند میں گھرا یہ پل سیاحوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔

اس پل کو عبور کرنا مشکل مہم سر کرنے کے مترادف ہے۔ یہاں سے گذرنے والے بہترین قدرتی ماحول اور قدرتی فضا ومناظر سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پل سے گذرنے والے ساتھ ساتھ یادگاری فوٹو بناتے اور شوشل میڈیا کے ذریعے ان کی تشہیر کے ساتھ ناظرین سے داد تحسین حاصل کرتے ہیں۔یہ پل سعودی عرب کے جنوبی علاقے الباحہ کے رغدان پارک میں واقع ہے، جہاں ہمہ وقت سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔

الباحہ سیکرٹریٹ میں سروسز کے سیکرٹری انجینیر عبدالعزیز المالکی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ معلق پل کی لمبائی 100 میٹر اور بلندی 13 سے 15میٹر ہے۔
پل کی تعمیر میں استعمال کرنے والے سیاحوں کی سلامتی اور حفاظت کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انجینیر المالکی نے کہا کہ الباحہ گھاٹی کے رغدان جنگل سے متصل یہ پل دھند سے ڈھکا رہتا ہے۔ سرکاری سطح پر اسے ایک آزمائشی پکنک پوائنٹ کے طور پر جلد ہی منظور کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments