اگلے سال سعودی عرب کی معاشی ترقی میں بے پناہ اضافہ ہو گا

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق سال 2022ء میں سعودیہ کی جی ڈی پی بڑھ کر4.3 فیصد اور امارات کی 4.2 فیصد ہو جائے گی

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل 27 جولائی 2021 12:25

اگلے سال سعودی عرب کی معاشی ترقی میں بے پناہ اضافہ ہو گا
دُبئی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔27جولائی2021ء ) خلیجی ممالک کورونا کے منفی اثرات سے تیزی سے باہر نکل رہے ہیں اور دوبارہ سے ترقی کی جانب گامزن ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سال 2022ء میں سعودیہ اور امارات کی معاشی ترقی کا سال ہو گا۔ العربیہ نیوز کے مطابق رواں سال کے دوران خلیجی ممالک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3 فی صد کے حساب سے شرح نمو متوقع ہے۔

خطے کی دوبڑی معیشتوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جی ڈی پی میں آیندہ سال کے دوران میں 4 فی صد کے حساب سے بڑھوتری کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔گذشتہ سال کووِڈ-19 کی وبا پھیلنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی جس کی وجہ سے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ذرائع آمدن اور معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

اب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ، یو اے ای اور کویت کو تیل کی پیداوار میں اضافے سے متعلق اوپیک پلس ممالک کے درمیان حال ہی میں طے شدہ سمجھوتے سے فائدہ پہنچے گا۔ابوظبی کمرشل بنک میں تعینات چیف اکانومسٹ مونیکا مالک کا کہنا ہے:”ہمارا مفروضہ یہ تھا کہ طویل مدت کے لیے ڈیل طے پاجائے گی اور ہم معیاری پیداواری (بیس لائن) ایڈجسٹمنٹ کی بنیادپر2022ء کی پیشین گوئی کرسکیں گے۔

اس کی بنیاد پر مئی 2022ء سے یو اے ای ، کویت اور سعودی عرب تیل کی پیداوار میں اضافہ کرسکیں گے اور عالمی مارکیٹ میں اپنا اپنا حصہ بھی بڑھاسکیں گے۔“میڈینز کے 5 سے 26 جولائی تک ایک سروے کے مطابق سعودی عرب کی جی ڈی پی کی اس سال شرح نمو2.3 فی صد رہے گی۔تین ماہ قبل اسی طرح کے پول میں سعودی معیشت کی شرح نمو2.4 فی صد رہنے کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔

2022ء میں مشرق اوسط کی سب سے بڑی معیشت اور دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب کی مجموعی داخلی پیداوار کی شرح بڑھ کر4.3فی صد ہوجائے گی۔ یواے ای کی قومی معیشت کی اس سال شرح نمو2.3 فی صد رہے گی،آیندہ سال یہ بڑھ کر4.2 فی صد ہوجائے گی اور 2023ء میں گھٹ کر 3.4 فی صد رہے گی۔اسی طرح کویت کی جی ڈی پی میں 2021ء میں 2.4 فی صد کے حساب سے اضافہ ہوگا،آیندہ سال یہ شرح4.6 فی صد ہوجائے گی اور 2023ء میں یہ شرح کم ہوکر3.0 فی صد رہے گی۔

موڈیز نے گذشتہ ماہ ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ”جی سی سی کی ریاستوں کو کم وبیش نصف آمدن تیل اورگیس کی برآمدات سے حاصل ہوتی ہے۔ان کے اپنی اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے ہدف میں ابھی کئی سال لگیں گے اور مالیاتی تنوع کے ہدف کے حصول میں بھی مزید وقت درکارہوگا۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments