بڑھتے ہوئے حادثات روکنے کیلئے سعودی ٹریفک قوانین میں تبدیلی کا امکان

نئے قوانین کے تحت اگر ٹریفک ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والا شخص جرمانہ ادا نہیں کرتا تواس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا تا کہ وہ اسے ادائیگی پر مجبور کرے۔ ذرائع

Sajid Ali ساجد علی بدھ 15 ستمبر 2021 11:05

بڑھتے ہوئے حادثات روکنے کیلئے سعودی ٹریفک قوانین میں تبدیلی کا امکان
ریاض ( اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 15 ستمبر 2021ء ) سعودی عرب میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات روکنے کیلئے مملکت میں رائج ٹریفک قوانین میں تبدیلی کا امکان ہے۔ العربیہ نیوز نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے نمٹنے کے لیے وضع کردہ پالیسی میں تبدیلی لائی جا رہی ہے اور اس حوالے سے ایک نیا میکا نزم تیار کیا جائے گا ، ان تبدیلیوں میں سب سے نمایاں ایک نیا نظام اپنانا ہے جو خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف لاگو ہوگا اوراسے پابند کیا جائے گا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر خلاف ورزی کا جرمانہ ادا کرے۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نئے قوانین کے تحت اگر ٹریفک ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والا شخص جرمانہ ادا نہیں کرتا تواس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا تا کہ وہ اسے ادائیگی پر مجبور کرے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ نئے اقدامات سعودی عرب کی ٹریفک کی حفاظت کو بڑھانے اور خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ہونے والے حادثات اور اموات کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں کیوں کہ سعودیہ میں گزشتہ کچھ عرصہ سے ٹریفک حادثات میں اضافہ ہونے لگا ہے، ہر روز کسی نہ کسی ٹریفک حادثہ میں لوگوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں ، اس حوالے سے سعودی پبلک پراسیکیوشن نے وارننگ جاری کردی ہے کہ تیز رفتار سے گاڑی چلانا ایک سنگین جرم ہے جس پر قید بھی ہو سکتی ہے ، حدِ رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلانا ڈرائیور کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کی زندگی کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔

پبلک پراسیکیوشن نے واضح کیا ہے کہ جن شاہراہوں پر حدِ رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے، اگر کسی نے اس سے 30 کلومیٹر فی گھنٹہ اضافی رفتار سے گاڑی چلائی اور اس دوران کوئی حادثہ پیش آگیا تو اسے سنگین جرم شمار کر کے مقدمہ چلایا جائے گا ، یہی صورت حال 120 کلومیٹر حدِ رفتار والی شاہراہ پر 50 کلومیٹر فی گھنٹہ اضافی رفتار سے گاڑی چلانے پر لاگو ہو گی ، حدِ رفتار سے تجاوز کے دوران کسی حادثے کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہونے، معذوری ہونے یا ایسی گہری چوٹ آنے جس کی شفایابی پر 21 روز سے زائد گزر جائیں، ان تمام صورتوں میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments