سعودی عرب ؛ تارکین وطن کی سنی گئی‘ مملکت میں انتقال کرنیوالے غیرملکی ورکرز کے بقایاجات ادا

سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے ایشیاء ، عرب اور دیگر ملکوں کے متوفی 98 غیرملکی ورکرز کے بقایاجات کی مد میں 28 لاکھ ریال سے زائد کی رقم رشتے داروں تک پہنچا دی

Sajid Ali ساجد علی بدھ 15 ستمبر 2021 13:07

سعودی عرب ؛ تارکین وطن کی سنی گئی‘ مملکت میں انتقال کرنیوالے غیرملکی ورکرز کے بقایاجات ادا
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 15 ستمبر 2021ء ) سعودی عرب میں انتقال کرنیوالے غیرملکی ورکرز کے بقایاجات ادا کردیے گئے ، ایشیاء ، عرب اور دیگر ملکوں کے متوفی 98 غیرملکی ورکرز کے بقایا جات کی مد میں 28 لاکھ ریال سے زائد کی رقم رشتے داروں تک پہنچا دی گئی۔ عرب میڈیا کے مطابق غیر ملکی ورکرز کے بقایا جات کی درخواستیں سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کی جانب سے نمٹائی گئی ہیں جس کے تحت مملکت میں وفات پانے والے تارکین وطن ورکرز کے 28 لاکھ ریال سے زیادہ کے بقایاجات ان کے رشتے داروں تک پہنچائے گئے ، اس مقصد کے لیے غیر ملکی کارکنان کے متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں یا براہ راست ان کے لواحقین کے ساتھ رابطہ کیا گیا جس کے بعد تصدیقی عمل مکمل کرتے ہوئے 28 لاکھ 68 ہزار 421 ریال ادا کیے گئے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود تنخواہوں اور بقایا جات کے تصفیے کے حوالے سے ایک ادارہ قائم کیے ہوئے ہے، یہ ادارہ مشکلات سے دوچار کمپنیوں کے نمائندوں کو طلب کرتا ہے اور ان سے رقوم لے کر خصوصی اکاوٴنٹ میں جمع کرادیتا ہے ، وزارت افرادی قوت کا یہ ادارہ ہر کمپنی کے حوالے سے ذیلی اکاوٴنٹ بھی قائم کیے ہوئے ہے ، ادارہ متاثرہ ورکرز کی فہرست تیار کرتا ہے ، ان کی تنخواہیں تقسیم کرنے کی سکیم بناتا ہے پھر متعلقہ کمپنی کے بااختیار نمائندے اور تنخواہوں کی تقسیم کے ذمہ داران کو طلب کرکے ان سے ورکرز کی تنخواہیں اور بقایا جات دلانے کی کارروائی کراتا ہے۔

یہاں قابل زکر بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں کورونا وبا کے باعث پاکستانیوں سمیت دیگر غیر ملکی ملازمین پر بہت کڑا وقت آیا ہے ، گزشتہ سال متعدد کمپنیوں نے ہزاروں ملازمین نوکریوں سے فارغ کر دیئے تھے اور لاکھوں ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کر دی تھی جب کہ کچھ کمپنیوں نے کئی ماہ تک اپنے ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی تھیں ، ان متاثرین میں پاکستانی بھی بڑی گنتی میں شامل تھے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments