سعودیہ میں نجی اداروں پر غیر ملکی ملازمین سے متعلق نئی پابندی عائد

آئندہ برس کے آغاز پر لیبر کورٹس میں کاغذی دستاویزات قبول نہیں کی جائیں گی، تمام نجی کمپنیاں غیر ملکی ملازمین کے معاہدوں کی توثیق ’قوی‘ نامی الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے کرائیں گے۔ سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود

Sajid Ali ساجد علی بدھ 15 ستمبر 2021 15:19

سعودیہ میں نجی اداروں پر غیر ملکی ملازمین سے متعلق نئی پابندی عائد
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 15 ستمبر2021ء ) سعودی عرب میں نجی اداروں پر غیر ملکی ملازمین سے متعلق نئی پابندی عائد کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کی جانب سے نجی اداروں پر غیر ملکی ملازمین سے متعلق پابندی عائد کی گئی ہے جس کے تحت تمام نجی ادارے غیر ملکی ملازمین کے معاہدوں کی توثیق ’قوی‘ نامی الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے کرائیں گے ، اس حوالے سے وزارت نے کہا ہے کہ آئندہ برس کے آغاز پر لیبر کورٹس میں کاغذی دستاویزات قبول نہیں کی جائیں گی لہذا نجی ادارے قوی ای پلیٹ فارم پر ملازمین کے معاہدوں کا اندراج کریں۔

بتایا گیا ہے کہ نئی پابندی کا مقصد فریقین کے درمیان اختلافات کے امکان کو کم سے کم کرنا ہے تاہم پھر اگر آجر اور اجیر میں کوئی جھگڑا ہو بھی جاتا ہے تو اس صورت میں ملازمت کے معاہدے کو بنیادی دستاویز کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود تنخواہوں اور بقایا جات کے تصفیے کے حوالے سے بھی ایک ادارہ قائم کیے ہوئے ہے، یہ ادارہ مشکلات سے دوچار کمپنیوں کے نمائندوں کو طلب کرتا ہے اور ان سے رقوم لے کر خصوصی اکاوٴنٹ میں جمع کرادیتا ہے ، وزارت افرادی قوت کا یہ ادارہ ہر کمپنی کے حوالے سے ذیلی اکاوٴنٹ بھی قائم کیے ہوئے ہے ، ادارہ متاثرہ ورکرز کی فہرست تیار کرتا ہے ، ان کی تنخواہیں تقسیم کرنے کی سکیم بناتا ہے پھر متعلقہ کمپنی کے بااختیار نمائندے اور تنخواہوں کی تقسیم کے ذمہ داران کو طلب کرکے ان سے ورکرز کی تنخواہیں اور بقایا جات دلانے کی کارروائی کراتا ہے۔

یہاں قابل زکر بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں کورونا وبا کے باعث پاکستانیوں سمیت دیگر غیر ملکی ملازمین پر بہت کڑا وقت آیا ہے ، گزشتہ سال متعدد کمپنیوں نے ہزاروں ملازمین نوکریوں سے فارغ کر دیئے تھے اور لاکھوں ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کر دی تھی جب کہ کچھ کمپنیوں نے کئی ماہ تک اپنے ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی تھیں ، ان متاثرین میں پاکستانی بھی بڑی گنتی میں شامل تھے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments