پہلا اومی کرون کیس سعودیہ کیسے پہنچا؟ حکام نے تحقیقات کا آغاز کردیا

شمالی افریقی ملک سے مسافر طیارے میں سوار ایک سعودی شہری میں اومی کرون کی تصدیق کے بعد سعودی عرب ان 21 سے زائد ممالک میں شامل ہوگیا جہاں اومی کرون انفیکشن ریکارڈ کیا گیا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 2 دسمبر 2021 11:03

پہلا اومی کرون کیس سعودیہ کیسے پہنچا؟ حکام نے تحقیقات کا آغاز کردیا
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 02 دسمبر 2021ء ) سعودی حکام نے مملکت میں کورونا وائرس کا پہلا اومی کرون ویریئنٹ کیس ریکارڈ ہونے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ عرب نیوز کے مطابق شمالی افریقی ملک سے مسافر طیارے میں سوار ایک سعودی شہری میں اومی کرون کی تصدیق ہونے کے بعد سعودی عرب ان 21 سے زیادہ ممالک میں شامل ہوچکا ہے جہاں اومی کرون انفیکشن ریکارڈ کیا گیا ، سعودی عرب نے ملک میں کورونا کی اومی کرون قسم کے پہلے مثبت کیس کی تصدیق ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ اس وبائی مرض کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں اور صحت کے حوالے سے تسلیم شدہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے کیس کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے ، اس فرد کو کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ تنہائی میں رکھا گیا ہے جن سے وہ رابطے میں تھے۔

(جاری ہے)

سعودی وزارت صحت کی خصوصی طور پر بلائی گئی ایک پریس کانفرنس کے دوران وزارت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العلی نے کہا کہ نئی قسم کے بارے میں ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے ، انہوں نے اس کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کے حوالے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ دنیا اور مملکت کے ماہرین صحت اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کی مہلکیت کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم اس مرحلے پر روک تھام علاج سے بہتر ہے اور معیاری احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہنا چاہیے۔

العلی نے ویکسینیشن پروگرام مکمل کرنے والے لوگوں کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا اور سفارش کی کہ جس بھی شخص کو دوسری ڈوز لگنے کے بعد 6 ماہ کا وقت گزر چکا ہے ، خاص طور پر 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو بوسٹر ڈوز لازمی لگوانی چاہیئے کیوں کہ تیسری خوراک کورونا کے خلاف تحفظ کی پیشکش کرتی ہے اور علامات کے ساتھ انفیکشن یا ہلکی بیماری کو روک سکتی ہے۔ انہوں نے نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ وزارت سے منظور شدہ توکلنا ایپ کے ذریعے اپنی صحت کی حالت پر نظر رکھیں ، جہاں ضروری ہو خود کو الگ تھلگ رکھیں اور وبائی امراض کے آغاز میں لائے گئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہیں۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>