سعودیہ ؛ ٹریفک خلاف ورزی کا جرمانہ غلط ثابت ہونے پر رقم کی واپسی کا طریقہ کار بتادیا گیا

ٹریفک اتھارٹی شکایت کو درست تسلیم کرتے ہوئے جرمانے کی وصولی کو غلط قرار دے تو جرمانے کی رقم اسی اکاؤنٹ میں واپس کر دی جائے گی جہاں سے اس کی ادائیگی کی گئی ہو۔ محکمہ ٹریفک

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 2 دسمبر 2021 12:45

سعودیہ ؛ ٹریفک خلاف ورزی کا جرمانہ غلط ثابت ہونے پر رقم کی واپسی کا طریقہ کار بتادیا گیا
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 02 دسمبر 2021ء ) سعودی عرب میں ٹریفک خلاف ورزی کا جرمانہ غلط ثابت ہونے پر رقم کی واپسی کے حوالے سے طریقہ کار بتادیا گیا ۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی محکمہ ٹریفک سے ایک شہری کی جانب سے شکایت کی گئی کہ حد سے زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے پر جرمانہ کیا گیا جسے میں نے ادا کر دیا لیکن مجھے یقین تھا کہ حد سے زیادہ رفتار کی خلاف ورزی نہیں کی اس لیے جرمانہ درست نہیں تھا لہٰذا جب اس معاملے کی شکایت درج کرائی تو اسے تسلیم کر لیا گیا لیکن اب جرمانے کی ادا کی گئی رقم کیسے واپس لی جائے؟۔

سعودی عرب کے محکمہ ٹریفک نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ٹریفک اتھارٹی کی جانب سے شکایت کو درست تسلیم کرتے ہوئے جرمانے کی وصولی کو غلط قرار دے دیا جائے تو جرمانے کی رقم اسی اکاؤنٹ میں واپس کر دی جائے گی جہاں سے اس کی ادائیگی کی گئی ہو۔

(جاری ہے)

دوسری طرف سعودی عرب میں ٹریفک پولیس نے کار اسکریچنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے ڈرائیوروں کو 10 لاکھ ریال تک جرمانے سے خبردار کردیا ، پہلی بار گرفتار ہونے پر 20 ہزار ریال جرمانہ ہوگا ، 3 باراسی جرم میں گرفتار ہونے پر جرمانے کی رقم 10 لاکھ ریال تک پہنچ جائے گی ، سعودی وزارت داخلہ نے ٹریفک خلاف ورزیوں کی مد میں جاری چالان کے حوالے سے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد بار کار اسکریچنگ کرنے پر جرمانے کی انتہائی حد 10 لاکھ ریال تک ہوسکتی ہے ، کیوں کہ کار اسکریچنگ کرنا سنگین ٹریفک خلاف ورزی میں شمار کی جاتی ہے ، اس لیے اسکریچنگ پر پہلی بار گرفتار ہونے والے کو20 ہزار ریال کا جرمانہ کیا جاتا ہے ، دوسری بار گرفتاری پر جرمانہ 40 ہزار ریال ہوگا جب کہ تیسری بار 60 ہزار اور چوتھی بار 10 لاکھ ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>