سعودی عرب نے بوسٹر ڈوز نہ لگوانے والوں کو پابندیوں سے متعلق خبردار کردیا

کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے میں داخلے پر پابندی ہوگی‘ ہوائی سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بھی نہیں کیا جا سکے گا۔ سعودی وزارت داخلہ کا بیان

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 4 دسمبر 2021 11:51

سعودی عرب نے بوسٹر ڈوز نہ لگوانے والوں کو پابندیوں سے متعلق خبردار کردیا
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 04 دسمبر 2021ء ) سعودی عرب نے بوسٹر ڈوز نہ لگوانے والوں کو پابندیوں سے متعلق خبردار کردیا ، بوسٹر ڈوز نہ لگوانے کی صورت میں کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے میں داخلے پر پابندی ہوگی‘ ہوائی سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بھی نہیں کیا جا سکے گا ‘ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال، تقریبات اور مختلف پروگراموں میں شرکت کیلئے بوسٹر ڈوز بھی لازمی شرط قرار دیدی گئی ۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کے 8 ماہ بعد محصن یعی ویکسین یافتہ کا اسٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے بوسٹر ڈوز لگوانا لازمی ہے کیوں کہ یہ اس کی بنیادی شرط ہے ، پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال، تقریبات اور مختلف پروگراموں میں شرکت کے لیے کورونا ویکسین کی پہلی 2 خوراکیں لگوانے کے 8 ماہ بعد بوسٹر ڈوز کا حصول ضروری ہے ، کیوں کہ یکم فروری 2022ء سے 18 برس اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے بوسٹر ڈوز لازمی ہوگی اس کے بغیر توکلنا ایپ میں محصن کا سٹیٹس برقرار نہیں رہے گا اور جولوگ دوسری ڈوز کے 8 ماہ بعد تک بوسٹر ڈوز نہیں لیں گے توکلنا ایپ میں ان کا سٹیٹس محصن برقرارنہیں رہے گا۔

(جاری ہے)

یہاں واضح رہے کہ سعودی عرب میں کورونا کی نئی قسم اومیکرون کا کیس سامنے آنے کے بعد سعودی حکام کی جانب سے کورونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز کے حوالے سے پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ سعودی حکام نے مملکت میں کورونا وائرس کا پہلا اومی کرون ویریئنٹ کیس ریکارڈ ہونے کی تحقیقات کا آغاز کردیا کیو ں کہ شمالی افریقی ملک سے مسافر طیارے میں سوار ایک سعودی شہری میں اومی کرون کی تصدیق ہونے کے بعد سعودی عرب ان 21 سے زیادہ ممالک میں شامل ہوچکا ہے جہاں اومی کرون انفیکشن ریکارڈ کیا گیا ، جس کے بعد سعودی عرب نے ملک میں کورونا کی اومی کرون قسم کے پہلے مثبت کیس کی تصدیق ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا ہے ، اس وبائی مرض کی تحقیقات کے علاوہ صحت کے حوالے سے تسلیم شدہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے کیس کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے ، اس فرد کو کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ تنہائی میں رکھا گیا ہے جن سے وہ رابطے میں تھے۔

سعودی وزارت صحت کی خصوصی طور پر بلائی گئی ایک پریس کانفرنس کے دوران وزارت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العلی نے کہا کہ نئی قسم کے بارے میں ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے ، انہوں نے اس کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کے حوالے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ دنیا اور مملکت کے ماہرین صحت اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کی مہلکیت کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم اس مرحلے پر روک تھام علاج سے بہتر ہے اور معیاری احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہنا چاہیے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>