اردن میں دہائیوں سے مقیم پاکستانی نرس "ورجن آف جارڈن" کی حیرت انگیز داستان

40 سالہ طویل غربت کے بعد عذرا خان 45 دینار کی حکومتی امداد پانے کیلئے بینک پہنچیں تو وہاں 64 ہزار امریکی ڈالر ان کے منتظر تھے‘ حیران کن انکشاف نے پاکستانی نرس کی زندگی بدل دی

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 13 جنوری 2022 10:32

اردن میں دہائیوں سے مقیم پاکستانی نرس "ورجن آف جارڈن" کی حیرت انگیز داستان
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 13 جنوری 2022ء ) اردن میں دہائیوں سے مقیم پاکستانی نرس عذرا خان کو طویل غربت کے بعد حیران کن طور پر ایک دن اچانک اپنے بینک اکاؤنٹ میں موجود 64 ہزار امریکی ڈالرز کی موجودگی کا علم ہوا ، اس انکشاف سے ان کی زندگی بدل گئی ۔ سعودی عرب کے المرصد اخبار اور سبق ویب سائٹ کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والی نرس عذرا خان 40 سال پہلے پاک فوج کے ساتھ اردن میں نرس کی حیثیت سے گئیں ، فوج اپنا مشن پورا کرکے واپس آگئی لیکن انہوں نے وہیں رہنے کو ترجیح دی ، فوج کے ساتھ کام کے دوران ان کا کام بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانا تھا تاہم جیسے ہی فوج اپنا مشن پورا کرکے پاکستان واپس لوٹی تو عذرا وہاں سے نکل کر ایک چھوٹے دیہاتی قصبے مفرق میں منتقل ہوگئیں جہاں یہ اپنے طور پر دایہ گیری کرنا چاہتی تھیں مگر حالات ان کی توقع سے برے ثابت ہوئے اور پاکستانی نرس نے ان سارے سالوں میں بھوک پیاس اور غربت ہی دیکھی۔

(جاری ہے)

رپورٹ سے معلوم ہوا کہ عذرا خان اردن میں اپنے قیام کے دوران کچھ جاننے والوں کو بچوں کی ولادت میں مدد کرتی رہیں مگر ان کا گزارہ لوگوں کی خیرات صدقات اور تعاون سے ہی چل رہا تھا ، مفرق گاؤں کے جس گھر میں عذرا خان رہتی ہیں وہ بھی کسی نیک انسان نے ترس کھا کر انہیں رہنے کیلئے دیا ہوا تھا ، اس وقت یہ گھر کسی بھی وقت منہدم ہو جانے کے خطرے سے دوچار انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کی چھت انتہائی خستہ حالی کے باعث ٹپکنے لگی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستانی نرس پچھلے دنوں مجبور ہو کر انتہائی ہمت کرکے علاقے کے ایک ذمہ دار کے پاس گئیں تاکہ وہ اس کیلئے کوئی حکومتی امداد حاصل کرسکے ، اس مقصد کیلئے عذرا کو ایک بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کیلئے لے جایا گیا جہاں ریکارڈ بتا رہا تھا کہ ان کا نام بینک میں پہلے سے ہی ایک اکاؤنٹ موجود ہے ، وہاں انہوں نے جو دستخط کیے وہ بھی بالکل اصلی تھے ، معاملے کی چھان بین کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جب یہ اچانک غائب ہوئی تھیں تو ان کے اکاؤنٹ میں ان کے کچھ پیسے رہ گئے تھے اور بعد ازاں سوشل سکیوریٹی والے ہر مہینے باقاعدگی سے ایک رقم ان کے اکاؤنٹ میں جمع کراتے رہے اور ان سارے سالوں میں اس اکاؤنٹ سے کوئی پیسے نہیں نکالے گئے تھے اور یوں سارے پیسے ملا کر اب 45 ہزار دینار ہو چکے تھے جو کہ 64 ہزار امریکی ڈالر بنتے ہیں۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments