خلیجی ممالک میں ٹریفک خلاف ورزیوں میں ملوث شہریوں کی شامت آگئی

جی سی سی ممالک میں جرمانوں کی ادائیگی کے نظام کو جوڑنے پر کام شروع ہوگیا ‘ ایک ملک میں ٹریفک خلاف ورزی پر جرمانہ ادا کیے بغیر دوسرے خلیجی ملک جانے والا بھی جرمانے سے بچ نہیں سکے گا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 13 جنوری 2022 11:29

خلیجی ممالک میں ٹریفک خلاف ورزیوں میں ملوث شہریوں کی شامت آگئی
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 13 جنوری 2022ء )  خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں جرمانوں کی ادائیگی کے نظام کو جوڑنے کے منصوبے پر کام شروع ہوگیا ‘ ٹریفک خلاف ورزی پر جرمانہ ادا کیے بغیر دوسرے خلیجی ملک جانے والا بھی جرمانے سے بچ نہیں سکے گا۔ سعودی گزٹ کے مطابق خلیج تعاون کونسل (GCC) ریاستوں کے جنرل ٹریفک محکموں کے درمیان ٹریفک کی خلاف ورزیوں کو جوڑنے کے لیے کام کرنے والے ورکنگ گروپ نے بدھ کے روز GCC ممالک کے درمیان ٹریفک کی خلاف ورزیوں کو الیکٹرانک طور پر منسلک کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ، جہاں اسسٹنٹ سیکرٹری برائے سیکورٹی امور میجر جنرل حزہ الہاجری نے ورکنگ گروپ کے 10ویں ورچوئل سیشن کی صدارت کی ، اجلاس میں عہدیداروں نے اس سلسلے میں بحرانوں اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے رابطہ کاری اور مشترکہ تیاری کو بڑھانے کے علاوہ جی سی سی کے ٹریفک محکموں کے درمیان رابطے کے اپنے تجربات کا بھی جائزہ لیا۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ متحدہ GCC ٹریفک جرمانے کی ادائیگی کا نظام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور زیادہ تر رکن ممالک اس منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے تیار ہیں ، جرمانوں کی ادائیگی کی نئی اسکیم سے جی سی سی ریاستوں کے درمیان ٹریفک کی خلاف ورزیوں اور مجوزہ جی سی سی یونیفائیڈ ٹریفک سسٹم کے تحت متعلقہ معاملات کے حوالے سے آسان تال میل اور ڈیٹا کے تبادلے کی توقع ہے ، نیا نظام ایک بار لاگو ہونے کے بعد جرمانے کی ادائیگی کے لیے تمام GCC ٹریفک محکموں کو ایک متحد طریقہ کار کے ذریعے جوڑ دے گا ، جس کے بعد کسی بھی GCC ریاست میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے جرمانے کی ادائیگی سے کوئی نہیں بچ سکتا۔

معلوم ہوا ہے کہ نئے نظام کے سے خلیجی ممالک میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں کو کم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی امید ہے کہ ہر وہ شخص جو کسی بھی GCC ملک میں خلاف ورزی کرتا ہے وہ لازمی جرمانہ ادا کرے ، اس سے ایسے گاڑی چلانے والوں کی خلاف ورزیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے گا جو جرمانے کی ادائیگی کیے بغیر دوسرے GCC ملک میں چلے جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments