سعودیہ میں تیز رفتار گاڑی بے قابو ہوکر دکان میں جا گھسی‘ ویڈیو وائرل

قصیم ریجن کے ایک کریانہ سٹور میں خاتون خریداری کے بعد رقم ادا کررہی تھی کہ اس دوران اچانک ہی دکان کا شیشہ ٹوٹنے کی آواز کے ساتھ ہی ایک لینڈ کروزر دکان میں گھس آگئی

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 14 جنوری 2022 14:38

سعودیہ میں تیز رفتار گاڑی بے قابو ہوکر دکان میں جا گھسی‘ ویڈیو وائرل
ریاض ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 14 جنوری 2022ء ) سعودی عرب میں تیز رفتار گاڑی بے قابو ہوکر دکان میں گھسنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ عرب میڈیا کے مطابق مملکت کے قصیم ریجن میں واقع ایک دکان میں موجود لوگوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایک تیز رفتار گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر دکان میں آن گھسی ، خوش قسمی سے اس حادثے کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک خاتون کریانہ سٹور میں خریداری کے بعد رقم ادا کررہی تھیں کہ اس دوران اچانک ہی دکان کا شیشہ ٹوٹنے کی آواز کے ساتھ ہی ایک لینڈ کروزر دکان میں گھس گئی ، خاتون گاڑی کی آواز سنتے ہی انتہائی تیزی کے ساتھ قریبی ہی موجود دروازے سے باہر بھاگ گئی تاہم خاتون کے نکلتے ہی جہاں وہ کھڑی تھی اس جگہ موجود ریکس بھی زمین بوس ہوگئے اور یوں خاتون حادثے سے بال بال بچ گئی۔

(جاری ہے)

 
واضح رہے کہ چند روز قبل بھی سعودیہ میں اس وقت خوفناک صورت حال پیدا ہوگئی جب ایک مقامی خاتون کی گاڑی بے قابو ہو کر پٹرول اسٹیشن سے جا ٹکرائی جس کے بعد خاتون کی گاڑی اور پٹرول کیبن میں خوفناک آگ بھڑک اْٹھی تاہم خاتون کو فوری طور پر گاڑی سے نکا ل لیا گیا اور وہاں پٹرول بھروانے کے لیے موجود دیگر گاڑیوں کو بھی پرے ہٹا لیا گیا اور عملے کی جانب سے آگ بجھانے والے آلات کا استعمال بھی کیا گیا۔

سعودی میڈیا کے مطابق سعودی خاتون ’جیمز‘ ماڈل کی گاڑی چلا رہی تھی ، اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں خاتون کی گاڑی کے پٹرول کیبن سے ٹکرانے کا منظر دیکھا جا سکتا ہے ، خاتون ڈرائیور کے ایک عزیز کا کہنا تھا کہ خاتون گاڑی چلانے کی ماہر ہے اور ریاض شہر کی رہائشی ہے ، وہ تعطیلات منانے الافلاج شہر آئی تھی،جہاں وہ شہزادہ محمد عبدالعزیز شاہراہ پر پٹرول بھروانے کے لیے پٹرول اسٹیشن میں داخل ہوئی تو گاڑی اس کے قابو سے باہر ہو گئی، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments