سعودی اقاموں اور ویزوں میں مفت توسیع سے پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے

توسیع کا فائدہ پاکستان ، بھارت اور افغانستان سمیت 17 ممالک کے شہریوں کو ہوگا ‘ محکمہ پاسپورٹ کے دفاتر اور سعودی سفارتخانوں یا قونصلیٹ جانے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی ۔ سعودی محکمہ پاسپورٹ کا بیان

Sajid Ali ساجد علی بدھ 26 جنوری 2022 13:59

سعودی اقاموں اور ویزوں میں مفت توسیع سے پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 26 جنوری 2022ء ) سعودی عرب کی جانب سے اقاموں اور ویزوں میں مفت توسیع سے پاکستانی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے ۔ سعودیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق مملکت کے محکمہ پاسپورٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اقاموں اور خروج و عودہ ویزوں میں توسیع کا فائدہ پاکستان ، بھارت ، افغانستان ، ترکی ، انڈونیشیا ، مصر، لبنان ، ایتھوپیا ، ویت نام ، برازیل ، جنوبی افریقہ ، زمبابوے ، نمیبیا ، موزمبیق ، بوٹسوانا ، لیسوتھو اور ایسواتینی میں موجود مقیم غیرملکیوں کو ہوگا ۔

سعودی عرب میں محکمہ پاسپورٹ نے فیس اور مقابل مالی کے بغیر بیرون مملکت موجود مقیم غیر ملکیوں کے اقاموں اور خروج و عودہ (ایگزٹ ری انٹری) ویزوں میں 31 مارچ 2022 تک توسیع سے مستفیض ہونے والے ممالک کی فہرست جاری کی ہے۔

(جاری ہے)

بتاتے چلیں کہ سعودی عرب کے محکمہ پاسپورٹ نے 24 جنوری کو ایک شاہی فرمان کی منظوری کے بعد خود کار سسٹم کے تحت اقاموں اور خروج و عودہ ویزوں میں 31 مارچ 2022ء تک توسیع شروع کردی ہے ، اس توسیع کے لیے تارکین یا ان کے سپانسرز کو محکمہ پاسپورٹ کے دفاتر سے رجوع کرنے اور سعودی سفارتخانوں اور قونصلیٹ جانے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی بلکہ یہ تمام کام نیشنل انفارمیشن سینٹر کے تعاون سے محکمہ پاسپورٹ کے خود کار نظام کے تحت مفت کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں سعودی عرب سے ملازمین کیلئے اچھی خبرہے کہ اب آجر براہ راست کسی غلطی پر ملازم کو برطرف نہیں کرسکتا بلکہ ملازم کو تحقیقاتی پینل کے متفقہ فیصلے سے ہی برطرف کیا جا سکتا ہے۔ سعودی گزٹ کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب کے جاب ڈسپلن قانون کے ایگزیکٹیو ریگولیشنز میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کسی ملازم کو تادیبی اقدامات کے تحت ملازمت سے برطرف کرنا اس کمیٹی کے متفقہ فیصلے پر مبنی ہوگا جو اس کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ہے ۔

ایگزیکٹو ریگولیشنز کے مطابق ایک چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی ہونی چاہیے، جس میں ایک چیئرمین اور تین اراکین شامل ہوں، جس میں وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی (MHRSD) کا ایک نمائندہ شامل ہو ، تحقیقاتی پینل ملازم کے خلاف شکایات کی تحقیقات الیکٹرانک ذرائع کی مدد سے دور سے بھی کر سکتا ہے ، الزام کا سامنا کرنے والے ملازم کو اس سے منسوب انضباطی خلاف ورزیوں کے بارے میں واضح طور پر آگاہ کیا جائے گا اور اس سلسلے میں اس کی وضاحتیں سنیں گے ، کمیٹی تادیبی خلاف ورزی کا حوالہ دینے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر اندر اپنی رپورٹ وزیر کو پیش کرے گی ، جب کہ ملازم کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حقدار ہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments