طائف: سوشل میڈیا پر ایک ریستوران میں بندر کا گوشت کھلانے کی خبریں گرم

میونسپلٹی کی جانب سے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جنوری 12:56

طائف: سوشل میڈیا پر ایک ریستوران میں بندر کا گوشت کھلانے کی خبریں گرم
طائف(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری 2019ء) گزشتہ کچھ دِنوں سے سعودیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر یہ خبریں پڑھنے میں آ رہی ہیں کہ طائف کے ایک مشہور ریستوران میں گاہکوں کو بندروں کے گوشت سے تیار کردہ کھانے کھلائے جا رہے ہیں۔ یہ دعویٰ اتنی شد و مد سے کیا گیا کہ مملکت میں بہت سارے لوگ اس پر یقین کر بیٹھے اور اس بات پر افسوس اور رنج کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ریستوران والے مسلمانوں کو حرام گوشت کھلا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس ریستوران کی بندش کی درخواست کرتے ہوئے یہاں کے مالکان اور ملازمین کو سخت سزائیں دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ کئی صارفین تو اتنے جذباتی ہو گئے کہ اُنہوں نے ریستوران کے کرتا دھرتا افراد کو سرعامِ کوڑے مارنے کا بھی مطالبہ کر ڈالا۔

(جاری ہے)

تاہم طائف کی میونسپلٹی کی جانب سے اس حوالے سے وضاحت آ گئی ہے۔ میونسپلٹی کے مطابق ریستوران کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبریں سراسر جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔

جن کا مقصد ریستوران کی شہرت کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس افواہ کے پیچھے کچھ شرپسند ذہن کے لوگ ہیں۔ جنہوں نے سوشل میڈیا کا استعمال کر کے سعودی عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ میونسپلٹی کے مطابق اُس کے اہلکار سارا سال تمام ریستورانوں پر چھاپے مار کر وہاں مو جود کھانے پینے کی تمام اشیاء اور حفظانِ صحت کے معیار کا جائزہ لیتے ہیں۔ اول تو اس طرح کی غلیظ حرکت کوئی کر نہیں سکتا اور اگر کوئی ریستوران کر بیٹھے تو اُس کا میونسپلٹی کی پکڑ سے بچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

میونسپلٹی کی جانب سے شہریوں اور تارکین وطن سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس طرح کی شر انگیز افواہوں پر یقین نہ کریں کیونکہ ماضی میں بھی سوشل میڈیا پر کبھی کُتے اور کبھی گدھے خچر کا گوشت گاہکوں کو کھلانے کی افواہ سازی ہوتی ہے، جو ہر بار غلط ثابت ہوئی۔ یہ منفی پراپیگنڈہ کسی ریستوران کی نیک نامی اور شہرت کو بہت زیادہ نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔

طائف میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments