پاپل ماس کے موقع پر پاکستانی رضاکارکی انتھک محنت منظرِ عام پر آ گئی

باسط عارف نے النہدہ ایکسیس ہب میں آپریشنل مینجر کے طور پر خدمات انجام دیں

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ فروری 14:28

پاپل ماس کے موقع پر پاکستانی رضاکارکی انتھک محنت منظرِ عام پر آ گئی
ابو ظہبی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6فروری 2019ء) جن لوگوں نے 5 فروری 2019ء کو پاپ فرانسس کے دورہ پر منعقد پاپل ماس کو کامیاب بنانے کے لیے دِن رات کام کیا۔ اُن کا یہ جذبہ قابلِ ستائش ہے۔ کئی رضاکاروں نے اپنے گھروں سے پندرہ سولہ گھنٹے کا طویل سفر طے کر زاید سپورٹس سٹی سٹیڈیم پہنچے اور پھر وہاں سے واپس گئے۔ تاہم کچھ رضاکار ایسے بھی تھے جنہوں نے پاپل ماس کی تیاریوں میں اپنا دِن رات کا سُکھ تیاگ دیا۔

یہ رضاکار مسلسل تین راتوں تک جاگتے رہے تاکہ پاپل ماس میں شرکت کے لیے جانے والوں ٹرانسپورٹیشن کے حوالے سے کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔ 25 سالہ پاکستان باسط عارف بھی ان چند لوگوں میں سے ایک ہے۔ باسط نے النہدہ ایکسیس ہب پر آپریشنل مینجر کے طور پر کام کیا۔ اس قسم کے امارات میں 13 ایکسیس ہب بنائے گئے تھے۔

(جاری ہے)

پاپل ماس کے موقع پر کیے جانے والے انتظامات میں سے یہ سب سے مشکل اور تھکا دینے والا مرحلہ تھا۔

تاہم باسط نے اپنے سُکھ چین کی پرواہ کیے بغیر اپنی ٹیم کی مدد سے اپنی بطور آپریشنل مینجر ذمہ داریوں کو شاندار طریقے سے انجام دیا۔ باسط نے بتایا ’’میں 3 فروری کی صبح کو سائٹ پر آیا تھا اور تب سے یہیں ہوں، شاید ہی میں نے اس دوران ایک سیکنڈ کی نیند بھی لی ہو۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ تمام کام اچھے طریقے سے ہو گیا۔‘‘ باسط کی ٹیم میں 20 کے قریب لوگ شامل تھے جنہوں نے 133 کے قریب بسوں کا انتظام سنبھالا ہوا تھا۔

ان بسوں کے ذریعے چھ ہزار سے کیتھولک عیسائیوں کو ابو ظہبی لے جایا گیا اور پھر واپس لایا گیا۔ باسط کی ٹیم کی یہ ساری بھاگ دوڑ 4 فروری سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ باسط نے مزید کہا کہ ’’یہ بہت سخت محنت کا کام تھا۔ یہاں تک کہ ہمیں بریک کے لیے بھی ٹائم نہیں مِلا تھا۔ تاہم ہم نے لوگوں کی تعداد اور اُن کے مذہبی جذبات کو دیکھتے ہوئے اپنا آرام بھُلا دی۔

‘‘ باسط نے 2017ء میں ایمریٹس ایوی ایشن کالج سے ایرو ناٹیکل انجینئرنگ میں ایرو ناٹیکل کی ڈگری حاصل کی۔ باسط نے اس سے قبل گزشتہ ماہ اے ایف سی ایشین کپ 2019ء میں بھی ایسا ہی انتھک کردار نبھایا تھا۔ باسط نے کہا ’’ میں نے یہ سب کام انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت کیا ہے۔ ہمیں اس سے کوئی تعلق نہیں کہ یہ دُوسرے مذہب یعنی عیسائیوں کا اجتما ع تھا۔ ہم نے خود کو خوش قسمت محسوس کیا کہ ہم نے اس کام میں شرکت کی، جب وہ واپس لوٹ رہے تھے تو اُنہیں مقدس پانی کی بوتلیں بھی تقسیم کیں۔

ابو ظہبی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments