متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے طبی قانون میں ترمیم

کورونا وائرس میں مبتلا شخص اطلاع نہ دینے کی صورت میں جیل جائے گا، جرمانہ بھی عائد ہو گا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل مارچ 18:07

متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے طبی قانون میں ترمیم
ابوظہبی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24مارچ 2020ء) متحدہ عرب امارات نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پرانے قانون میں ترمیم کر کے اس میں کورونا کو بھی شامل کر لیا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کورونا وائرس میں مبتلا شخص اپنی بیماری چھُپائے تو اسے قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانہ بھی عائد ہو گا۔ وزارت انصاف کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ متعدی امراض سے متعلق وفاقی قانون کے 2014ء کے قانون نمبر 14میں کرونا کی بیماری کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جس کا مقصد عوام کی صحت کا تحفظ اور کورونا سے نمٹنے کی خاطر حکومت کی کوششوں کو مستحکم بنانا ہے۔

وزرات انصاف کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ قانون کے تحت کورونا کی بیماری چھُپانے والے یا اس کے دانستہ پھیلاؤ کا سبب بننے والے افراد کو قید یا 10 ہزار درہم جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا، بعض صورتوں میں یہ دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔

(جاری ہے)

اگر کوئی ڈاکٹر، فارمسسٹ، فارمیسی ٹیکنیشن اور میڈیکل پریکٹیشنر بھی کرونا سمیت دیگر وبائی امراض کے شکار افراد کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ نہیں کرتا، یا اس کی ان امراض سے موت سے متعلق حقائق سامنے نہیں لاتا تو ایسے پیشہ ور افراد کو بھی سزا بھُگتنا ہو گی۔

اس قانون کا اطلاق کسی متاثرہ شخص کے ساتھی کارکنوں، بحری جہاز، ہوائی جہاز اور کسی دیگر ٹرانسپورٹ کے انچارج پر بھی ہو گا۔ اگر یہ لوگ اپنے زیر انتظام کسی بھی ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے کورونا کے کسی مشتبہ مریض کے بارے میں جانتے ہیں تو انہیں بھی متعلقہ حکام کو آگاہ کرنا ہو گا۔ خلاف ورزی کرنے کی صورت میں جیل جانا ہو گا یا پھر کم از دس ہزار درہم اور زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار درہم کا جرمانہ ہو گا یا دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکیں گی۔

اسی طرح جو لوگ کورونا میں مبتلا ہونے کے باوجود کسی ہسپتال یا صحت مرکز کا رخ نہیں کریں گے، انہیں بھی سزا ہو گی۔ جوفرد اپنے کورونا میں مبتلا ہونے کے مرض کے بارے میں جاننے کے باوجود لوگوں سے میل جول جاری رکھے گا، اسے کم از کم پانچ سال قید اور کم از کم پچاس ہزاردرہم کا جرمانہ کیا جائے گا۔ 

ابو ظہبی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments