امارات کی اتحاد ایئر ویز نے سینکڑوں ملازمین کو فارغ کر دیا

خلیجی ایئرلائن کے مطابق کورونا وائرس کے باعث جنم لینے والا معاشی بحران اس ناپسندیدہ فیصلے کی وجہ بن گیا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل مئی 17:09

امارات کی اتحاد ایئر ویز نے سینکڑوں ملازمین کو فارغ کر دیا
ابوظبی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19مئی 2020ء) کورونا وائرس کی عالمی وبا نے دُنیا بھر کے ممالک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ خصوصاً بین الاقوامی اور اندرونی پروازوں پر بندش کے باعث ایئر لائنز بُرے حالات سے گزر رہی ہیں۔ کئی ایئر لائنز کا دیوالیہ نکل گیا ہے جبکہ متعدد ایئر لائنز نے بہت سے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا ہے یا انہیں بغیر تنخواہ چُھٹی دے دی ہے۔

امارات کی مشہور ایئر لائن اتحاد ائیر ویز نے بھی مختلف شعبوں سے سینکڑوں ملازمین کو فارغ کردیا ہے، جس کی وجہ کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والا معاشی بحران ہے۔ اتحاد ایئر ویز کے ترجمان نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے ”ہمیں اپنی ورلڈ کلاس ورک فورس پر بے انتہا فخر ہے، تاہم موجودہ کاروباری صورت حال کے پیش نظر مختلف شعبوں میں ملازمین کی تعداد گھٹائی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

کورونا کی وبا کے باعث جہاں ہر کاروباری شعبہ متاثر ہوا ہے، وہیں اتحاد ایئر ویز بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہا ہے۔ موجودہ حالات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں بھی فضائی سفر محدود رہے گا، جس کی وجہ سے اتحاد ایئرلائنز کو مجبوراً مشکل فیصلے لیتے ہوئے ملازمین کی تعداد میں کمی کرنی پڑ رہی ہے۔ “ دیگر فضائی کمپنیوں کی طرح اتحاد ایئر ویز کے طیارے بھی کئی ہفتو ں تک گراؤنڈ رہے ہیں۔

تاہم کچھ دنوں سے اس ایئر لائن کی جانب سے ابو ظبی ایئرپورٹ سے مسافروں کے لیے خصوصی پروازیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی اتحاد کی پروازیں مسافروں کو ابو ظبی لا رہی ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال اتحاد ایئر لائنز کے ملازمین کی گنتی 20,500 تک پہنچ گئی تھی، کورونا کے باعث کاروباری مشکلات کا شکار ہو گئی ہے، اسی وجہ سے فضائی عملے سمیت دیگر شعبوں سے بھی سینکڑوں ملازمین کی نوکریاں ختم کر دی گئی ہیں۔

جس کا مقصد اخراجات میں کمی لا کر تجارتی خسارے پر قابو پانا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں مزید ملازمین کی نوکریاں ختم کی جائیں گی۔ 2016ء سے لے کر اب تک اتحاد ایئر ویز کو 20.5 ارب درہم کا بڑا معاشی خسارہ ہو چکا ہے۔

متعلقہ عنوان :

ابو ظہبی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments