متحدہ عرب امارات نے ریٹائرڈ غیر ملکیوں کو خوشخبری سنادی

پاکستانیوں سمیت دیگر غیر ملکی ملازمین جو کہ ریٹائرڈ ہوچکے ہیں وہ اب 5 برس کے لیے یو اے ای کا اقامہ حاصل کرسکتے ہیں ، ایسے افراد اپنے اہل خانہ کیلئے بھی اقامہ حاصل کرانے کے اہل ہوں گے

Sajid Ali ساجد علی منگل 12 اکتوبر 2021 10:30

متحدہ عرب امارات نے ریٹائرڈ غیر ملکیوں کو خوشخبری سنادی
ابو ظہبی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - 12 اکتوبر 2021ء ) متحدہ عرب امارات نے ریٹائرڈ غیر ملکیوں کو خوشخبری سنادی ، پاکستانیوں سمیت دیگر غیر ملکی ملازمین جو کہ ریٹائرڈ ہوچکے ہیں وہ اب 5 برس کے لیے یو اے ای کا اقامہ حاصل کرسکتے ہیں ، ایسے افراد اپنے اہل خانہ کیلئے بھی اقامہ حاصل کرانے کے اہل ہوں گے اس کے لیے انہیں ڈیجیٹل طریقے سے درخواست جمع کرانا ہوگی۔

عرب میڈیا کے مطابق ریٹائرڈ ہونے والے غیر ملکیوں کو جاری کیے جانے والے اقامے کے لیے مقرر کی جانے والی شرائط میں اہم ترین شرط مالی استطاعت کی ہے ، جس کے تحت ریٹائرڈ افراد کو کم ازکم 10 لاکھ درھم یا اس کے مساوی رقم کے ڈپازٹ کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا ، 6 ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ جمع کرانا ہوگی ، اس کے علاوہ درخواست گزار کو اس بات کا بھی عہد کرنا ہوگا کہ وہ ڈپازٹ کی گئی رقم کو متحدہ عرب امارات منتقل کرے گا یا پھر یو اے ای میں سرمایہ کاری کے لیے مذکورہ رقم کو استعمال میں لایا جائے گا۔

(جاری ہے)

شرائط کے تحت 5 برس کا اقامہ حاصل کرنے کے لیے درخواست گزار کو سالانہ آمدنی کا سرٹیفکیٹ بھی دینا ہوگا جو ایک لاکھ 80 ہزار درہم یا اس کے مساوی ہونا چاہیئے ، اسی طرح پیشہ ورانہ تجربے کا سرٹیفیکٹ بھی پیش کرنا ہوگا جو کم از کم 15 برس کا ہونا چاہیئے ، درخواست گزار کو اپنی رنگین تصویر اور پاسپورٹ کی فوٹو کاپی جمع کرانا ہوگی۔ علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات نے 5 سالہ ملٹی انٹری سیاحتی ویزے کھول دیے ہیں ، متحدہ عرب امارات میں امیگریشن حکام نے ملک میں داخل ہونے کے لیے 5 سالہ ملٹی انٹری سیاحتی ویزوں کے لیے درخواستیں طلب کرلی ہیں ، فیڈرل اتھارٹی برائے شناخت اور شہریت (آئی سی اے) نے کہا ہے کہ یہ ویزا اب تمام قومیتوں کے لیے جاری کیا جائے گا ، جس کے تحت بیرون ملک سے آنے والے غیر ملکی کئی بار سیلف اسپانسر شپ پر یو اے ای میں داخل ہوسکیں گے اور ہر دورے پر 90 دن تک ملک میں رہ سکتے ہیں ، جسے مزید 90 دن تک بڑھایا بھی جا سکتا ہے ، درخواست گزاروں کو آئی سی اے کے ذریعے ویزا کے لیے درخواست دینے کے لیے 650 درہم ادا کرنا ہوں گے۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ میں ٹریول ایجنسیوں نے ملٹی انٹری سیاحتی ویزا کی دستیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ویزا کے حصول میں دلچسپی رکھنے والے افراد براہ راست آئی سی اے کی ویب سائٹ پر درخواست دے سکتے ہیں ، ٹریول ایجنسیوں کو کوٹہ سسٹم نہیں دیا گیا ، درخواست گزار کے بینک اسٹیٹمنٹ سمیت دیگر دستاویزات براہ راست ویب سائٹس پر اپ لوڈ کی جا سکتی ہیں جس کے بعد یہ امیگریشن اتھارٹی کی صوابدید ہے کہ درخواست گزار کو ویزا دیا جائے یا نہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دلچسپی رکھنے والے سیاح جو ابوظہبی ، شارجہ ، عجمان ، ام الکوین ، راس الخیمہ ، فجیرہ ، ال عین اور الظفرا (مغربی علاقہ) میں امیگریشن محکموں سے ویزا کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں وہ آئی سی اے کی ویب سائٹ پر درخواست دے سکتے ہیں جب کہ دبئی سے جاری کردہ ایک سے زیادہ انٹری وزٹ ویزے جی ڈی آر ایف اے کے ذریعے مجاز ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کہ آئی سی اے کے ذریعے 5 سالہ سیاحتی ویزا حاصل کرنے کے لیے مرحلہ وار عمل میں سب سے پہلے درخواست کی معلومات اپ لوڈ کریں ، بشمول نام ، سروس سے فائدہ اٹھانے والے شخص کی مکمل تفصیلات جس میں متحدہ عرب امارات کے اندر کا پتہ اور متحدہ عرب امارات سے باہر کا پتہ بھی شامل ہو۔

دوسرے مرحلے میں رنگین تصویر ، پاسپورٹ کی کاپی ، میڈیکل انشورنس ، اور بینک اسٹیٹمنٹ بشمول پچھلے 6 مہینوں کے لیے اٹیچمنٹ اپ لوڈ کریں ، درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں پچھلے چھ مہینوں میں 4000 امریکی ڈالر یا اس کے مساوی غیر ملکی کرنسیوں میں رقم ہونی چاہیئے ، یہ عمل مکمل ہونے کے بعد ایک بار اپنی درخواست کا جائزہ لیں ، درخواست کے لیے مطلوبہ فیس کی ادائیگی کریں اور ای میل کے ذریعے اپنا ویزا حاصل کریں۔

اس ضمن میں آئی سی اے نے کہا ہے کہ یہ سروس تمام قومیتوں کے تمام افراد کے لیے دستیاب ہے ، جس کے تحت ہر فرد کو 5 سال کے لیے ایک سے زیادہ داخلے کا ویزا ملے گا ، بشرطیکہ ملک میں قیام کی مدت ایک سال میں 90 دن سے زیادہ نہ ہو ، اس ویزا کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں پہلے داخلے کی تاریخ سے (پہلے ، دوسرے سے پانچویں تک) سال کا حساب شروع ہوتا ہے ، اگر آپ ملک میں قیام کی سالانہ مدت کو ایک سال میں 90 دن سے زیادہ کرنا چاہتے ہیں بشرطیکہ یہ مدت 180 دن سے زیادہ نہ ہو تو آپ ملک میں قیام کی مدت بڑھانے کی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔

ابو ظہبی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments