متحدہ عرب امارات ایک بار پھر نوجوانوں کا پسندیدہ ترین ملک بن گیا

عرب اقوام کے نوجوانوں نے مسلسل دسویں سال دنیا بھر میں یو اے ای کو اپنے رہنے کیلئے سب سے زیادہ پسندیدہ ملک قرار دے دیا ، سروے نتائج میں امریکہ دوسرے اور کینیڈا تیسرے نمبر پر رہا

Sajid Ali ساجد علی بدھ 13 اکتوبر 2021 12:44

متحدہ عرب امارات ایک بار پھر نوجوانوں کا پسندیدہ ترین ملک بن گیا
ابو ظہبی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 13 اکتوبر 2021ء ) متحدہ عرب امارات ایک بار پھر نوجوانوں کا پسندیدہ ترین ملک بن گیا ، عرب اقوام کے نوجوانوں نے مسلسل دسویں سال دنیا بھر میں یو اے ای کو اپنے رہنے کیلئے سب سے زیادہ پسندیدہ ملک قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق اصداء کے بی سی ڈبلیو 13ویں سالانہ سروے کے نتائج میں عرب نوجوانوں نے مسلسل دسویں برس بھی دنیا بھر میں متحدہ عرب امارات کو اپنے رہنے کیلئے سب سے زیادہ پسندیدہ ملک قرار دیا ہے اور اسے اپنے آبائی ملک کی طرح بہت زیادہ چاہنے کا اظہار بھی کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ عالمی تحقیق و جائزہ کمپنی پی ایس بھی ان سائٹ کی جانب سے کیے گئے سروے میں 17 عرب ممالک کے 50 شہروں میں 18 سے 24 برس عمر کے 3 ہزار 400 نوجوانوں کی رائے لی گئی ، جن میں سے 47 فیصد عرب نوجوانوں نے رہنے کیلئے متحدہ عرب امارات کو اپنا پسندیدہ ترین ملک قرار دیا ، سروے میں دوسرے نمبر پر امریکہ رہا جس کے بارے میں 19 فیصد عرب نوجوانوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا گیا ، سروے میں 15 فیصد نے کینیڈا اور 12 فیصد نے جرمنی جب کہ 11 فیصد نے فرانس کو پسند کیا۔

(جاری ہے)

امارتی میڈیا رپورٹ سے معلوم ہوا کہ سروے میں 28 فیصد عرب نوجوانوں نے متحدہ عرب امارات میں موجود وسیع مواقع اور اس کی ترقی کرتی ہوئی معیشت کو اپنی پسندیدگی کی وجہ قرار دیا اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے صاف ماحول ، حفاظت و سلامتی ، فراخدلانہ تنخواہ کے پیکجز نے بھی اس میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بی سی ڈبلیو کے مینا ریجن کے صدر سنیل جان نے اس حوالے سے کہا کہ سروے کے نتائج ، متحدہ عرب امارات کی شان کو بڑھاتے ہیں ، یہ ملک رواں سال اپنے قیام کی 50 سالہ تقریبات منارہا ہے اور آئندہ کے 50 سال بھی خوشحال اور کامیاب بنانے کیلئے پرعزم ہے ، عالمی وباء کورونا وائرس کے چیلنجز کے باوجود اس کی قیادت کی فعال اور متحرک کاوشوں کی وجہ سے ایکسپو 2020ء دبئی منعقد ہورہی ہے ، اماراتی نوجوانوں کا قومی اقتصادی ویژن پر بھرپور اعتماد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

ابو ظہبی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments