یو اے ای میں کورونا کا ایک اور کاری وار‘ آج پھر 2600 سے زائد نئے کیسز کی تصدیق ہوگئی

بدھ کے روز ملک میں کورونا وائرس کے 2,616 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے ‘ اس دوران 982 مریض صحت یاب ہوئے اور 4 اموات بھی رپورٹ ہوئیں

Sajid Ali ساجد علی بدھ 12 جنوری 2022 15:33

یو اے ای میں کورونا کا ایک اور کاری وار‘ آج پھر 2600 سے زائد نئے کیسز کی تصدیق ہوگئی
ابوظہبی ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 12 جنوری 2022ء ) کورونا وائرس کے ایک اور کاری وار کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات میں آج پھر 2600 سے زائد نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت اور روک تھام نے بدھ کے روز ملک میں کوویڈ 19 کورونا وائرس کے 2,616 نئے کیسز کی اطلاع دی ، اس دوران 982 مریض صحت یاب ہوئے اور 4 اموات کی بھی تصدیق کی گئی جب کہ یو اے ای میں مجموعی طور پر اب تک 115 اعشاریہ 7 ملین پی سی آر ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اومی کرون قسم دوبارہ انفیکشن کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ آسکتی ہے ، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی جن کو پہلے کوویڈ ہو چکا ہے تاہم عام طور پر حفاظتی ٹیکوں والی کمیونٹیز میں یہ بہت ہلکی شکل میں آتا ہے۔

(جاری ہے)

سپیشلسٹ انٹرنل میڈیسن پرائم میڈیکل سنٹر ڈاکٹر پریا بھارت خلیج ٹائمز سے گفتگو میں کہتی ہیں کہ B.1.1.529 اومی کرون ویریئنٹ میں بہت سے تغیرات ہیں ، جن میں سے کچھ متعلقہ ہیں ، دوسرے متغیرات کے مقابلے میں اس ویرینٹ سے دوبارہ انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اومی کرون انفیکشن والا کوئی بھی شخص وائرس کو دوسروں تک پھیلا سکتا ہے، چاہے وہ ویکسین لگائے گئے ہوں یا اس میں علامات نہ ہوں ، اس کے پیش نظر مکمل طور پر ویکسین شدہ شہریوں کو کوویڈ 19 بوسٹر خوراک لینے کی ضرورت ہوگی ، وہ لوگ جو طبی وجوہات کی بنا پر ویکسین لینے سے قاصر ہیں انہیں اس فیصلے سے استثنیٰ حاصل ہے۔

ادھر ملک میں ہیلتھ پریکٹیشنرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ تھوک پر مبنی کورونا ٹیسٹ درست ثابت ہوا ہے اور دبئی ہیلتھ اتھارٹی (DHA) سمیت مختلف اداروں میں کیا جاتا ہے کیوں کہ بہت سے مطالعات نے دستاویز کیا ہے کہ تھوک کا ٹیسٹ ناسوفرینجیل کا ایک قابل قبول متبادل ہے لیکن گھر میں جمع کیے گئے تھوک کے نمونے سفر کے لیے قابل قبول نہیں ہیں ، یہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہو سکتا ہے تاہم اس کا انحصار ریگولیٹری حکام پر ہے۔

ابو ظہبی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments