پاکستانی باورچی کی بریانی دُبئی والوں کے دِلوں پر راج کرنے لگی

علی محمد کی بریانی کو دُبئی کی بہترین بریانی کا ایوارڈ بھی مِل چُکا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ فروری 16:25

پاکستانی باورچی کی بریانی دُبئی والوں کے دِلوں پر راج کرنے لگی
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9فروری 2019ء) کوئی شخص دُبئی کا رہنے والا ہو۔ اور اُس نے پاک لیاری ریسٹورنٹ کی چٹخارے دار بریانی نہ کھائی ہو، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس ریسٹورنٹ کی بریانی کے امارات بھر میں چرچے ہیں۔ یہ مشہور اور مزے دار بریانی تیار کرنے والا اس ریسٹورنٹ کا مالک علی محمد ہے۔ علی محمد کراچی کے علاقے لیاری کا رہنے والا ہے۔

علی محمد کی عمر اس وقت 52سال ہے۔ وہ 1986ء سے کھانا پکانے کے شعبے سے وابستہ ہے۔علی محمد نے بتایا ’’ میرے والد صاحب بھی باورچی کے پیشے سے جڑے تھے۔ اس کے علاوہ میرے تایا چاچا بھی اسی پیشے سے روزگار کماتے رہے ہیں۔ دُبئی آنے سے پہلے میں نے لیاری میں ہی کام کیا۔ اس کے بعد میرا اُستاد مجھے 1986ء میں یہاں لے آیا۔ 1989ء میں مَیں واپس پاکستان گیا۔

(جاری ہے)

پاکستان میں بھی میرا کام بہت چلتا تھا۔ کراچی کے کونے کونے میں ہمارے ریسٹورنٹ کا تیار کیا گیا کھانا جاتا تھا۔ اس کے بعد میں دوبارہ 2007ء میں دُبئی آ گیا۔ اور یہاں پاک لیاری ریسٹورنٹ قائم کیا۔ میرے والد اور بڑے بھائی کے انتقال کے بعد میرے بھتیجوں کی ذمہ داری بھی مجھ پر آن پڑی۔ مجھے دُبئی میں آ کر بہت عزت اور مقام مِلا ہے۔ مجھے دُبئی میں بہترین بریانی کا ایوارڈ مِل چکا ہے۔

میں ایک دفعہ اپنے ہوٹل کی سبقہ والی برانچ میں بیٹھا تھا۔ تو وہاں دوعربی کسٹمر آئے اور کھانا کھایا۔ اس وقت میں اور میرے والد دونوں وہاں موجود تھے۔ کھانا کھانے کے بعد ان عربیوں نے ویٹر سے پوچھا کہ یہ بریانی کس نے تیار کی ہے۔ جب ویٹر نے میرا بتایا تو وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے ہاتھ ملا کر کہا کہ وہ دوبارہ میرے ریسٹورنٹ آئیں گے۔ پھر یہ لوگ دوبارہ آئے اور یہاں موجود میرے مینجر کو بہترین بریانی کا ایوارڈ دے کر گئے۔

ہمیں اس ایوارڈ کے ملنے پر بہت خوشی آئی۔ اللہ نے ہمیں عزت دی ہے۔ بس اتنی بات ہے کہ والدین پڑھائی کا کہتے تھے۔ وہ نہیں کی۔ حالانکہ اس دور میں پڑھائی لازم ہے۔ مصالحے تو میرے وہی ہوتے ہیں، بس کھانا پکانے کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں دُبئی میں لوگ اُبلے ہوئے چاول بناتے ہیں اور اس پر سالن علیحدہ سے بنا کر ڈال دیتے ہیں اور اسے بریانی کا نام دیتے ہیں۔

اور کچھ چاول اور چکن الگ الگ اُبال کر اس پر بعد میں علیحدہ سے مصالحہ ڈال دیتے ہیں، اور اسے بریانی کہتے ہیں۔ لیکن ہماری بریانی اس طرح کی نہیں ہے۔ ہماری بریانی دم کی بریانی ہے۔ میں لال گوشت کی بریانی بناتا ہوں۔ رمضان کے مہینے میں مساجد اور افطار پارٹیوں میں ہمیں بہت آرڈر ملتے ہیں۔ الحمد للہ رمضان کے مہینے میں ہماری ایک ایک برانچ پر ہر ہفتے دو سو ڈھائی سو کلو بریانی فروخت ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ شادی بیاہ پر بھی آرڈر ملتے ہیں۔مجھے اللہ نے میری اوقات سے بڑھ کر دیا ہے۔ ‘‘ علی محمد کا کہنا ہے کہ اس نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے لیاری جرائم کی آماجگاہ تھا۔ وہاں لوٹ مار اور قتل و غارت کے واقعات عام تھے۔ تاہم اب حالات سُدھر گئے ہیں جس پر وہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر گزار ہے۔آپ بھی دُبئی میں پاکستانی بریانی کی عظمت کا جھنڈا گاڑنے والے علی محمد کی ویڈیو ملاحظہ کیجیے۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments