دُبئی: ملازمین کو تنخواہیں بر وقت ادا نہ کرنے والے کمپنی مصیبت میں گھِر گئی

عدالت کی جانب سے کمپنی کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے پانچ لاکھ درہم کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات ستمبر 11:26

دُبئی: ملازمین کو تنخواہیں بر وقت ادا نہ کرنے والے کمپنی مصیبت میں گھِر ..
دُبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،5 ستمبر، 2019 ء) متحدہ عرب امارات کی ایک مقامی کمپنی کو عدالت نے تنخواہوں کے معاملے میں غیر ذمہ داری اور بدنیتی کا قصور وار ٹھہراتے ہوئے بھاری جرمانہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک مقامی کمپنی نے اپنے 643 ملازمین کو ایک ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی تھی۔ جس پر ملازمین نے مقامی عدالت سے رجوع کیا۔ پبلک پراسکیوٹر کی جانب سے کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ کو سینکڑوں ملازمین کی تنخواہیں روکنے کا قصور وار ٹھہرایا گیا ۔

اور فاضل جج سے مطالبہ کیا کہ کمپنی کی اس حرکت سے سینکڑوں ملازمین ذہنی اذیت میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ مالی پریشانی کا بھی شکار ہوئے۔ جبکہ کئی افراد کے آبائی وطن میں موجود اہل و عیال کو بھی پیسوں کی کمی کے باعث بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔

(جاری ہے)

اس لیے کمپنی کو اس غیر ذمہ داری پر 50 لاکھ درہم کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے کیونکہ اس طرح کی حرکت سے کمپنی اماراتی لیبر قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔

تاہم عدالت نے استغاثہ کی یہ سفارش اس بناء پر مسترد کر دی کہ اس دوران کمپنی نے تنخواہ کی ادائیگی کر دی تھی اور گمپنی پر پانچ لاکھ درہم کا جرمانہ عائد کیا۔اس فیصلے کے خلاف کمپنی کی جانب سے اپیل کورٹ میں رجوع کیا گیا۔ جس میں کمپنی کے وکیل نے کہا کہ چند انتظامی امور کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں ایک ماہ کی تاخیر ہو گئی تھی، تاہم بعد میں تنخواہ ادا کر دی گئی۔

اس لیے کمپنی پر عائد پانچ لاکھ درہم کے جرمانے کی سزا کالعدم قرار دی جائے۔ عدالت نے کمپنی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم سُنایا کہ تنخواہوں کی ایک ماہ تاخیر سے ادائیگی بذاتِ خود ایک جرم ہے۔ اس سے ملازمین کو پہنچنے والی ذہنی اذیت کی تلافی نہیں ہو جاتی۔ اس لیے 5 لاکھ درہم جرمانے کی سزا معاف نہیں کی جا سکتی۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments