دُبئی: پاکستانی سُپروائزر نے اپنے بھارتی ملازم کی جان بچا لی

دو بھارتی کارکن گُتھم گُتھا ہو گئے، ایک کو شدید چوٹیں آئیں تو سُپروائزر اُسے فوراً ہسپتال لے گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر نومبر 11:04

دُبئی: پاکستانی سُپروائزر نے اپنے بھارتی ملازم کی جان بچا لی
دُبئی(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔4 نومبر 2019ء ) دُبئی میں روزگار کی غرض سے مقیم دو بھارتی کارکنوں نے ذرا سی بات پر ایک دُوسرے کی پٹائی کر دی۔ دونوں کی اس لڑائی کے نتیجے میں بھارتی کارکن شدید زخمی ہو گیا، جسے اُس کے پاکستانی سُپروائزر نے بروقت ہسپتال لے جا کر اُس کی جان بچا لی۔ عدالت کی جانب سے دونوں کولڑائی جھگڑے کے لیے قصور وار ٹھہرایا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

استغاثہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دونوں بھارتی کارکن کارپینٹر کا کام کرتے تھے، جنہیں دُبئی کی ایک کمپنی نے ملازمت دے رکھی تھی۔ دونوں کو کمپنی کی جانب سے حطا کے علاقے کی ایک رہائشی بلڈنگ میں ایک ہی کمرے میں رہائش دی گئی تھی۔تاہم دونوں میں جھگڑا رہتا تھا، وقوعے کے روز 26 سالہ بھارتی کارکن نے اپنے ساتھی کارکن کو کمرے کی صفائی کا کہا، اس بات پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو ہاتھا پائی میں بدل گئی۔

(جاری ہے)

اس دوران 26 سالہ بھارتی کارکن نے 32 سالہ ہم وطن کے سر پر لوہے کا اوزار دے مار ا جس سے اُس کے سر سے خون کا فوارہ بہنے لگا۔ قریب تھا کہ بھارتی ملازم کی اس شدید چوٹ کے نتیجے میں خون بہنے سے جان چلی جاتی، مگر اطلاع ملنے پر اُن کا پاکستانی سُپروائزر موقع پر پہنچ گیا اور ایمبولینس کا انتظار کیے بغیر ہی زخمی بھارتی کارکن کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر ہسپتال لے گیا۔

جہاں ڈاکٹروں کی بروقت طبی امداد سے اُس کی جان بچ گئی۔ 28 سالہ پاکستانی سُپروائزر نے بتایا کہ زخمی کارکن پر حملہ کرنے والا اُس کا ہم وطن نشے کی حالت میں تھا جب اُس نے اپنے ساتھی کو کمرے کی صفائی کے معاملے پر لوہے کی ایک بھاری چیز دے ماری۔ جس سے وہ زخمی ہو گیا اور اُس کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ تاہم ڈاکٹروں نے اُس کی جان بچا لی۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت 20 نومبر کو ہو گی۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments