امارات: کئی سال تک کم سن بچی سے زیادتی کرنے والے باپ کی رحم کی اپیل مسترد

ملزم بچی سے 7سال سے 14 سال کی عمر تک زیادتی کرتارہا، بے غیرت باپ نے بیٹی کی نازیبا حالت میں 665 ویڈیوز بھی بنا رکھی تھیں

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ مارچ 14:16

امارات: کئی سال تک کم سن بچی سے زیادتی کرنے والے باپ کی رحم کی اپیل مسترد
راس الخیمہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25مارچ 2020ء) گزشتہ ماہ امارات میں مقیم ایک غیر ملکی والد کو اپنی کم سن بچی کو کئی سال تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں سزائے موت سُنائی گئی تھی۔ شیطان صفت ملزم نے اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں رحم کی اپیل دائر کی تاہم فاضل جج نے ملزم کے انسانیت کو شرمسار کرنے والی کرتوت کی بناء پر اس کی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہوس پرست والد بیٹی کو کئی سال سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا ۔ یہاں تک کہ مظلوم بچی کو اپنے گھر سے بھاگنا پڑا۔ جس کے بعداس بدکردار والد کے سیاہ کرتوت سامنے آ گئے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق ملزم کا تعلق ایک ایشیائی ملک سے ہے جو روزگار کی غرض سے راس الخیمہ میں مقیم تھا ۔بچی کی عمر سات برس تھی جب پہلی بار والد نے اس سے غلط حرکات کیں۔

(جاری ہے)

جب بھی بچی کی والدہ اسے والد کے پاس چھوڑ کر جاتی، تو غیرت سے عاری والد اس کے ساتھ جنسی حرکات کرتا۔ ملزم اس سے کئی سال تک جنسی حرکات کرتا رہا۔ مظلوم بیٹی کسی کو اپنے ساتھ ہونے والی یہ شرمناک حرکت نہ بتا سکی۔ جس کے بعد شیطان صفت باپ کا حوصلہ مزید بڑھ گیا۔ملزم اپنی بیٹی کو ساتھ بٹھا کر فحش فلمیں دیکھنے پر بھی مجبور کرتا رہا۔ ملزم نے کچھ عرصہ بعد بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنانا شروع کر دیا تھا۔

سفاک باپ نے اس گھناؤنے راز پر پردہ ڈالنے کی خاطر بیٹی کو گھر کے ایک کمرے میں قید کر رکھا تھا۔ ایک روز مظلوم بچی موقع پا کر گھر سے بھاگ کھڑی ہوئی اور اپنی ایک سہیلی کے گھر جا کر اُس کے والدین کو ساری صورت حال سے آگاہ کر دیا۔ جسے سُن کر وہ صدمے سے دنگ رہ گئے۔ جنہوں نے فوری طور پر پولیس کو آگاہ کر دیا۔ پولیس نے بے شرم والد کو فوری طور پر گرفتار کر لیا۔

جب ملزم کا موبائل فون چیک کیا گیا تو یہ دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ وہ اپنی بیٹی کی نازیبا حالت میں ویڈیوز بھی بناکر محفوظ کرتا رہا تھا، جن کی تعداد 665تھی۔ ملزم نے تفتیش کے دوران اپنے شرمناک جُرم کا اعتراف کر لیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد ایشیائی ملزم کو اس کے گھناؤنے جُرم پر موت کی سزا سُنائی گئی ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی بہت زیر بحث رہا تھا۔

اکثر صارفین نے مقدمے کی سماعت کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ رشتوں کا تقدس پامال کرنے والے ایشیائی شخص کو ایسی سزا دی جائے جو عبرت ناک ہو۔ تاکہ آئندہ کوئی غلیظ ذہن کا مالک اس طرح کی کسی جنسی حرکت کرنے کا تو دُور اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکے۔ملزم کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سزا مسترد ہونے کے بعد اس کی موت یقینی ہو گئی ہے۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments