متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس کے 85 نئے کیسز سامنے آ گئے

مملکت میں کورونا سے متاثرہ افراد کی گنتی 333 تک جا پہنچی

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ مارچ 18:43

متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس کے 85 نئے کیسز سامنے آ گئے
دُبئی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25مارچ 2020ء) متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس ایک خوفناک بلا کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حکومت کے بہترین انتظامات کے باوجود کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں کمی واقع نہ ہو سکی، بلکہ گزشتہ دو تین روز سے مریضوں کی گنتی میں درجنوں کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اماراتی وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آج کے روز مملکت میں مزید 85 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ۔

جن میں مقامی اور تارکین وطن دونوں شامل ہیں۔ متاثرہ افراد میں یورپی اور ایشیائی باشندے بھی شامل ہیں۔ کورونا کے تازہ ترین مریضوں کے سامنے آنے کے بعد کورونا کے کل کیسز کی گنتی 333 تک جا پہنچی ہے۔ اماراتی وزارت صحت کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحسینی نے آج میڈیا بریفنگ میں نئے مریضوں کی تعداد کے بارے میں آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

ان کا مزید کہنا تھا کہ مملکت میں کورونا کے مزید سات مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والے افراد کی کل گنتی 52ہو گئی ہے۔

مملکت میں موجود زیادہ تر کورونا مریضوں کی حالت مستحکم ہے اور ان کی حالت میں بتدریج سدھار پیدا ہو رہا ہے۔ڈاکٹر الحسینی نے لوگوں کو تاکید کی کہ مملکت میں کورونا سے بچنے کا واحد حل زیادہ سے زیادہ احتیاط اور گھروں میں رہنا ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ گھر میں بیٹھنے والے لوگوں کے کورونا سے بچنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پرانے قانون میں ترمیم کر کے اس میں کورونا کو بھی شامل کر لیا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کورونا وائرس میں مبتلا شخص اپنی بیماری چھُپائے تو اسے قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانہ بھی عائد ہو گا۔مذکورہ قانون کے تحت کورونا کی بیماری چھُپانے والے یا اس کے دانستہ پھیلاؤ کا سبب بننے والے افراد کو قید یا 10 ہزار درہم جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا، بعض صورتوں میں یہ دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔

اگر کوئی ڈاکٹر، فارمسسٹ، فارمیسی ٹیکنیشن اور میڈیکل پریکٹیشنر بھی کرونا سمیت دیگر وبائی امراض کے شکار افراد کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ نہیں کرتا، یا اس کی ان امراض سے موت سے متعلق حقائق سامنے نہیں لاتا تو ایسے پیشہ ور افراد کو بھی سزا بھُگتنا ہو گی۔اس قانون کا اطلاق کسی متاثرہ شخص کے ساتھی کارکنوں، بحری جہاز، ہوائی جہاز اور کسی دیگر ٹرانسپورٹ کے انچارج پر بھی ہو گا۔

اگر یہ لوگ اپنے زیر انتظام کسی بھی ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے کورونا کے کسی مشتبہ مریض کے بارے میں جانتے ہیں تو انہیں بھی متعلقہ حکام کو آگاہ کرنا ہو گا۔ خلاف ورزی کرنے کی صورت میں جیل جانا ہو گا یا پھر کم از دس ہزار درہم اور زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار درہم کا جرمانہ ہو گا یا دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکیں گی۔اسی طرح جو لوگ کورونا میں مبتلا ہونے کے باوجود کسی ہسپتال یا صحت مرکز کا رخ نہیں کریں گے، انہیں بھی سزا ہو گی۔ جوفرد اپنے کورونا میں مبتلا ہونے کے مرض کے بارے میں جاننے کے باوجود لوگوں سے میل جول جاری رکھے گا، اسے کم از کم پانچ سال قید اور کم از کم پچاس ہزاردرہم کا جرمانہ کیا جائے گا۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments