امارات میں سٹیریلائزیشن کے باعث آج رات سے میٹرواور ٹرام سمیت سرکاری و نجی ٹرانسپورٹ معطل

آج رات آٹھ بجے سے لے کر اتوار کی صبح 6 بجے تک لوگوں کے باہر نکلنے پر پابندی ہو گی، خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزا ہو گی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات مارچ 14:41

امارات میں سٹیریلائزیشن کے باعث آج رات سے میٹرواور ٹرام سمیت سرکاری ..
دُبئی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔26مارچ 2020ء) متحدہ عرب امارات کی تمام ریاستوں میں آج رات سے تین روزہ سٹیریلائزیشن مہم شروع کی جا رہی ہے۔ جس کا مقصد اماراتی سرزمین اور عوام کو کورونا کی آفت سے نجات دلانا ہے یہ سٹیریلائزیشن مہم آج جمعرات کی شب سے شروع ہو کر اتوار کی صبح تک جاری رہے گی۔جس کا دورانیہ رات 8 بجے صبح 6بجے تک ہو گا۔ اماراتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ تمام افراد آج جمعرات کی شام سے لے کر اتوار کی صبح تک خود کو گھروں میں محدود رکھیں ورنہ نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

جو لوگ اگلے تین روز کے دوران گھروں سے باہر نکلیں گے، انہیں جیل جانا ہو گا یا پھر ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر عبدالعزیز عبداللہ احمد نے ایک الیکٹرانک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ نیشنل سٹیریلائزیشن مہم کے باعث اگلے تین روز میں لوگوں کی گھروں سے باہر نقل و حمل پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اس تین روزہ مہم کے دوران تمام عوامی مقامات اور سرکاری دفاتر، گلیوں، سڑکوں، سرکاری ٹرانسپورٹس، ٹرام اور میٹرو ٹرین کی صفائی ستھرائی اور جراثیم سے پاک کرنے کے لیے سٹیریلائزیشن کی جائے گی۔ آج رات 8 بجے سے میٹرواور ٹرام سمیت تمام سرکاری و نجی ٹرانسپورٹ پرسوموار کی صبح تک 4 روز کی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ اس دوران کوئی بھی شخص اپنی ذاتی گاڑی بھی لے کر سڑک پر نہیں آسکے گا۔

ٹریفک پر مکمل پابندی ہوگی۔ لوگوں کو گھروں سے بھی باہر آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ تاہم اس دوران سپر مارکیٹس اور فارمیسیز کھُلی رہیں گی۔ صرف انتہائی مجبوری کے باعث گھر سے باہر آیا جا سکتا ہے۔ اگلے تین روز تک لوگوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا جس کے نتیجے میں انہیں قید اور جرمانے کی سزا بھُگتنا پڑے گی۔وزارت صحت کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحسینی نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ گھروں میں رشتہ داروں کا ہجوم اکٹھاکرنے سے گریز کریں تاکہ کورونا کے خطرات سے ممکنہ حد تک محفوظ رہا جا سکے۔ 

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments