کورونا نے 6بچوں سے ان کے والدین چھین لیے

بدنصیب بچوں کا باپ اور ماں دونوں ایک مہینے کے اندر اللہ کو پیارے ہو گئے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ مئی 16:46

کورونا نے 6بچوں سے ان کے والدین چھین لیے
شارجہ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20مئی 2020ء) دُنیا بھر میں کورونا کی وبا سے تین لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ اس عالمی وبا کے باعث ہزاروں دردناک کہانیوں نے جنم لیا ہے۔ ایسی ہی ایک المناک کہانی شارجہ میں مقیم ان 6بچوں کی ہے جو چند دنوں میں ہی ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت دونوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 57 سالہ سوڈانی علی احمد الطیب اپنی بیوی اور چھ بچوں کے ساتھ شارجہ میں مقیم تھا۔

رمضان المبارک کے دوران الطیب اور اس کی بیوی میں کورونا کی تصدیق ہوئی۔ دونوں مقامی ہسپتال میں زیر علاج رہے، تاہم الطیب کی بیوی تین ہفتے قبل انتقال کر گئی۔ جس کے بعد الطیب ہی اپنے بچوں کا واحد سہارا تھا۔ تاہم گزشتہ روز الطیب بھی کورونا کے خلاف کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔

(جاری ہے)

جس کے بعد اس کے چھ بچے بے آسرا ہو گئے ہیں۔

غمزدہ بچے عجمان کے علاقے تووان میں مقیم اپنے والد کے بھتیجے محمد ہاشم کے گھر چلے گئے ہیں۔ ان بدنصیب بچوں میں سب سے بڑا بیٹا وعد علی احمد دسویں گریڈ کا طالب علم ہے، بیٹی بتول علی احمد نویں گریڈ، بیٹا کمال الدین علی احمد گریڈ آٹھ، بیٹی زینب علی احمد گریڈ 6 اور نور البیان علی احمد گریڈ 1 کی طالبہ ہے۔ جبکہ تین، چار سال کا محمد علی احمد کنڈر گارٹن جاتا ہے۔

بچوں کو سنبھالنے والے ان کے کزن ہاشم کی ابھی حال میں ہی شادی ہوئی ہے، اس نے بتایا کہ بچوں کا باپ شوگر کا مریض تھا، کورونا کا شکار ہونے کے بعد اس کی حالت بگڑ گئی اور اپنی بیوی کے بعد وہ بھی چل بسا۔ ہاشم کا کہنا تھا کہ اسے امید ہے کہ دُکھ کے مارے بچے جلد ہی ماں باپ کی موت کے صدمے سے سنبھل جائیں گے۔ تاہم ان کی پڑھائی جاری رکھنا ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ ان کے ماں باپ کی بھی خواہش تھی کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کریں۔ پچھلے سال بھی یہ بچے لیٹ فیس کی وجہ سے سکول نہیں جا سکے تھے۔ گلف نیوز کے مطابق ان بدنصیب بچوں کی دکھ بھری داستان جاننے کے بعد دار البیر سوسائٹی کی جانب سے ان بچوں کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments