دبئی میں ایشیائی باشندے نے زیادہ بولنے پر کفیل کو موت کے گھاٹ اتار دیا

اپنے کفیل کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ وہ بہت زیادہ باتیں کرتا اور ہر وقت بڑبڑاتا رہتا تھا ، ملزم کا اعتراف ۔۔ عدالت نے اپنے 75 سالہ آجر کو گلا دبا کر قتل کرنے پر 32 سالہ ایشیائی مالی کو عمر قید کی سزا سنا دی

Sajid Ali ساجد علی منگل 14 ستمبر 2021 14:18

دبئی میں ایشیائی باشندے نے زیادہ بولنے پر کفیل کو موت کے گھاٹ اتار دیا
دبئی ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 14 ستمبر 2021ء ) دبئی میں ایشیائی باشندے نے زیادہ بولنے پر اپنے اسپانسر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اماراتی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک 32 سالہ ایشیائی باغبان کو دبئی کی فوجداری عدالت نے اپنے 75 سالہ آجر کو گلا دبا کر قتل کرنے پر عمر قید کی سزا سنائی ہے ، ملزم نے حکام کے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے کفیل کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ وہ بہت زیادہ باتیں کرتا اور ہر وقت بڑبڑاتا رہتا تھا۔

پولیس اور پبلک پراسیکیوشن کی تحقیقات کے مطابق مقتول کی بیوی نے بتایا کہ اپنے بچوں کے ساتھ باہر گئی ہوئی تھی جب شام کو واپس آئی تو ملزم نے گھر داخل ہوتے وقت دروازے پر ہی بتایا کہ اس کا شوہر زمین پر گر گیا ہے ، میں نے سوچا کہ وہ زیادہ شوگر کی وجہ سے گر گیا ہوگا کیونکہ وہ ذیابیطس میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے ماضی میں کوما میں بھی جا چکا تھا لیکن میں نے دیکھا کہ اس کے گلے میں کپڑے کا ایک ٹکڑا لپٹا ہوا ہے ، اس کے بعد میں نے پولیس کو اطلاع دی۔

(جاری ہے)

خاتون نے بتایا کہ جب ایمبولینس آئی تو ملزم نے اس کے شوہر کا فون اسے دیا اور پولیس کے آنے تک ملزم منظر سے غائب ہو گیا ، ایمبولینس میں موجود میڈیکل ٹیم نے اسے بتایا کہ متاثرہ شخص کی موت ہوگئی ہے۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ مقتول کے گلے میں کپڑے کے ٹکڑے کی موجودگی اور پولیس کے پہنچنے پر ملزم کی مشکوک گمشدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مجرمانہ فعل میں ملوث ہے جب کہ خاتون نے یہ بھی بتایا کہ ملزم ضرور فرار ہوا ہوگا کیوں کہ اسے دوسروں کی سرپرستی حاصل تھی اور وہ غیر قانونی طور پر کام کر رہا تھا۔

بعد ازاں سی آئی ڈی کی ٹیم ملزم کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئی جہاں پوچھ گچھ کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایک باغبان کے طور پر کام کر رہا تھا ، جس کے لیے مقتول کے بیٹے نے اسے قائل کیا کہ وہ اس کے بزرگ باپ کے پاس ماہانہ 2 ہزار درہم کی خدمت کرے جہاں اس نے دو ماہ کام کیا لیکن اسے صرف 800 درہم ادا کیے گئے بعد میں اس کی تنخواہ 600 درہم کم کردی گئی۔

ملزم نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ شخص اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا تھا ، حتیٰ کہ گالیاں بھی دیتا تھا اور اسے اپنی لاٹھی سے مارتا تھا ، وقوعہ کے دن متاثرہ شخص نے اسے چائے اور شیشہ بنانے کو کہا تاہم اس نے دیر ہونے کا بہانہ بنا کراسے مارا تو ملزم نے اسے زمین پر دھکیل دیا اور اسے مارنا بند کرنے کو کہا۔ ملزم کے مطابق متاثرہ شخص اٹھا اور اسے تھپڑ مارا ، جس پر ملزم نے پھر اسے دھکا دیا اور نیچے گرا کر اس کے اوپر بیٹھ گیا ، اس دوران مقتول نے مزاحمت کی اور ملزم کی گردن پر سفید کپڑا لپیٹنے کی کوشش کی لیکن ملزم نے وہ کپڑا اس سے کھینچ لیا اور 75 سالہ کفیل کا گلا گھونٹ دیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ مر گیا۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments