دبئی میں مقیم پاکستانیوں کیلئے فلپائن میں چھٹیاں گزارنے کا سنہری موقع

فلپائن کی ایک معروف ایئرلائن نے دبئی منیلا پروازوں کی اپنی آٹھویں سالگرہ کے موقع پر محض ایک درہم سے بھی کم کرائے پر بکنگ شروع کردی

Sajid Ali ساجد علی منگل 12 اکتوبر 2021 11:15

دبئی میں مقیم پاکستانیوں کیلئے فلپائن میں چھٹیاں گزارنے کا سنہری موقع
دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - 12اکتوبر 2021ء ) فلپائن کی ایک معروف ایئرلائن نے دبئی منیلا پروازوں کی اپنی آٹھویں سالگرہ کے موقع پر ایک درہم سے بھی کم کرائے پر بکنگ شروع کردی۔ اماراتی خبر رساں ادارے کے مطابق فلپائن کی معروف کیریئر سیبو پیسیفک نے دبئی منیلا پروازوں کی اپنی آٹھویں سالگرہ منانے کے لیے متعارف کرائی گئی پروموشن کے طور پر 1 درہم سے بھی کم کرائے پر یک طرفہ فلائٹ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ، جس کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اب فلپائن کے لیے ٹریڈ مارک دبئی منیلا ہوائی کرایہ کے معاہدے کے ساتھ یکم جون 2022ء سے 31 اگست 2022ء کے درمیان سفر کرتے ہوئے اپنی چھٹیوں کی منصوبہ بندی شروع کرسکتے ہیں ، یہ سہولت 10 سے 15 اکتوبر تک بکنگ کرانے پر دستیاب ہے ، جس کے تحت مسافر منیلا سے دبئی کے لیے بھی پروازیں بک کر سکتے ہیں ، جس کے لیے ایک پیسہ بیس کم کرایہ کی سہولت 14 اکتوبر تک ہے ، مسافر ایئرلائن کی ویب سائٹ کے ذریعے اپنی پروازیں بک اور دیکھ سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے ایئر لائن حکام کا کہنا ہے کہ ہم اس آٹھ سالہ سنگ میل کو ہر ایک کے ساتھ بانٹنے پر بہت خوش ہیں جو ہمیں ایک بہترین ایئرلائن بننے میں مدد دے گا ، چوں کہ سیبو پیسفک 2013ء میں پہلی بار دبئی کے آسمان پر گیا ، جس نے اپنی پہلی کم لاگت اور لمبی مسافت پر پرواز بھی کی ، ہمارا مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا ہے کہ ہر ایک کو محفوظ ، قابل رسائی اور سستا سفر فراہم کرنا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ ہم اپنا منیلا دبئی منیلا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ، ہمیں امید ہے کہ ہم ملک اور بیرون ملک میں مزید فلپائنیوں کی سفری ضرورویات کو پورا کر سکیں گے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے حال ہی میں فلپائنی سمیت تمام قومیتوں کے لیے پانچ سالہ ملٹی انٹری ویزا کے لیے درخواستوں پر کارروائی شروع کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات کا سفر بھی آسان بنا دیا ہے ، وہ ہر دورے پر 90 دن تک ملک میں رہ سکتے ہیں ، جس میں مزید 90 دن کی توسیع کی جا سکتی ہے۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments