"میں اب بھی یہیں موجود ہوں، ایمرٹس اے 380 پر سفر کریں اور دبئی ایکسپو پہنچ جائیں"

ایمرٹس ائیرلائن کی ائیرہوسٹس ایک مرتبہ پھر برج خلیفہ کی چوٹی پر جا پہنچی، عین اسی وقت دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ بھی قریب سے گزرا

muhammad ali محمد علی ہفتہ 15 جنوری 2022 01:08

"میں اب بھی یہیں موجود ہوں، ایمرٹس اے 380 پر سفر کریں اور دبئی ایکسپو پہنچ جائیں"
دبئی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جنوری 2022ء) ایمرٹس ائیرلائن کی ائیرہوسٹس ایک مرتبہ پھر برج خلیفہ کی چوٹی پر جا پہنچی۔ تفصیلات کے مطابق ایمرٹس ائیرلائن کی جانب سے ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے مسافروں کو راغب کرنے حیرت انگیز اشتہار تیار کیا گیا ہے، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

ایمرٹس ائیرلائن کی ائیرہوسٹس ایک مرتبہ پھر دبئی میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کی چوٹی پر جا پہنچی اور دنیا بھر کے شہریوں کو ایمرٹس ائیرلائن کے ذریعے سفر کر کے دبئی ایکسپو 2020 میں شرکت کی دعوت دی۔

ائیرہوسٹس نے برج خلیفہ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر پلے کارڈ تھام رکھے تھے، جن پر درج کیا گیا کہ ""میں اب بھی یہیں موجود ہوں، ایمرٹس اے 380 پر سفر کریں اور دبئی ایکسپو پہنچ جائیں"۔

(جاری ہے)

ائیرہوسٹس جب برج خلیفہ کی چوٹی پر موجود تھی، عین اسی وقت دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ اے 380 بھی قریب سے گزرا۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اگست میں ایمرٹس کی اسی ائیرہوسٹس نے برج خلیفہ کی ہی چوٹی پر چڑھ کر مسافروں کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ متحدہ عرب امارات کو برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔




اس انتہائی خطرناک اشتہار کی شوٹنگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ برج الخلیفہ کی چوٹی پرچڑھنے والی خاتون میزبان نے فضائی سفر کے دوران استعمال ہونے والا مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔ ایمریٹس ایئرلائنز کی جانب سے شائع کردہ ویڈیو کلپ نے اشتہار کی تیاری اور فلم بندی کے مناظر دکھائے گئے اور اشتہار کی ہیروئن پردے کے پیچھے دکھائی۔

فضائی میزبان کے برج الخلیفہ کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے پہلے محتاط منصوبہ بندی ، تربیت اور سخت حفاظتی پروٹوکول وضع کیا گیا۔ فلم بندی کا آغاز طلوع آفتاب سے ہوا اور ٹیم کے اراکین بشمول فضائی میزبان کے 828 میٹر بلند برج خلیفہ کی 160 ویں منزل سے اوپر چڑھنا شروع ہوئے اور انہیں چوٹی تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ 15 منٹ لگے۔ اس اشتہار نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments