شارجہ کے ہوٹل میں بزرگ کی سوئمنگ پول میں ڈُوبنے سے ہلاکت کا معاملہ

عدالت کی جانب سے سوئمنگ پول کے ایشیائی لائف گارڈ پر فردِ جرم عائد کر دی گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات ستمبر 14:39

شارجہ کے ہوٹل میں بزرگ کی سوئمنگ پول میں ڈُوبنے سے ہلاکت کا معاملہ
شارجہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،5ستمبر، 2019 ء) شارجہ کے علاقے المجاز میں واقع ایک ہوٹل کے سوئمنگ پول میں گزشتہ دِنوں ایک بزرگ شخص ڈُوب کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ اس معاملے میں زیر سماعت مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے سوئمنگ پول کے 29 سالہ ایشیائی ملازم کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ استغاثہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ جس وقت 65 سالہ بزرگ گہرے پانی سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا، اس دوران آن ڈیوٹی لائف گارڈ کسی اور مقام پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔

سوئمنگ پول کے پاس ایک سیکیورٹی گارڈ نے جب بزرگ کی جان خطرے میں دیکھی تو اسے بچانے کے لیے سوئمنگ پول میں کُود پڑا اور اسے پانی سے باہر کھینچ لایا۔ تاہم اس کی تشویش ناک حالت کے پیش نظر اسے القاسمی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ چھ گھنٹے زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔

(جاری ہے)

پولیس کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت لائف گارڈ ڈیوٹی پر ہونے کے باوجود موقع سے غائب تھا۔

جس نے بعد میں پولیس کو بتایا کہ وہ وقوعہ کے وقت ہوٹل کے کیفے ٹیریا میں ناشتہ کر رہا تھا۔ ملزم کے مطابق اسے ابھی ناشتہ شروع کیے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ اس کے ساتھی ملازم کی جانب سے موبائل فون پر کال آئی کہ ہوٹل کے سوئمنگ پول میں ایک شخص ڈُوب گیا ہے۔ جس پر میں فوراً موقع پر پہنچا تو دیکھا کہ سیکیورٹی گارڈ ایک بزرگ آدمی کا سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میری اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں ہے۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت آئندہ تاریخوں تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

شارجہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments