شارجہ کا بجلی محکمہ بھی پاکستانی واپڈا محکمے کی راہ پر چل پڑا

پاکستانی نوجوان کو خراب میٹر کے بہانے 15 ہزار درہم کا بِل بھیج دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر نومبر 11:10

شارجہ کا بجلی محکمہ بھی پاکستانی واپڈا محکمے کی راہ پر چل پڑا
شارجہ(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔4 نومبر 2019ء ) پاکستانی عوام ہر وقت واپڈا کی جانب سے زائد بِل بھیجنے کا رونا روتے رہتے ہیں اور اس بات کی بھی شکایت کرتے ہیں کہ واپڈا ملازمین خراب میٹر کا بہانہ بنا کر اُنہیں ہزاروں روپے کا ناجائز جرمانہ ٹھوک دیتے ہیں، اوراس طرح وہ اپنی مبینہ کرپشن کے باعث ہونے والے لائن لاسزبھی عوام سے ہی پُورے کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو وطن کے سرکاری محکموں کی نااہلیوں اور مبینہ کرپشن کے باعث واپس آنے کو دِل نہیں کرتا۔ تاہم شارجہ میں مقیم ایک پاکستانی نوجوان کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے کہ اُسے ایسا لگا کہ وہ امارات میں نہیں بلکہ پاکستان میں رہائش پذیرہے۔ محمد سلیمان عارف نے ایک اماراتی اخبار کے ایڈیٹرکو بھیجے گئے خط میں بتایا ہے ”میں نے شارجہ کے علاقے النہدہ میں جنوری 2016ء میں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا، اس تمام مُدت میں اپنے بجلی کے تمام بل باقاعدگی سے ادا کرتا رہا۔

(جاری ہے)

تقریباً دو سال اس اپارٹمنٹ میں گزارنے کے بعد مجھے 2018ء میں شارجہ الیکٹریسٹی اینڈ واٹر اتھارٹی کی جانب سے 15,742 درہم کا ہوش رُبا بل بھیج دیا گیا۔ مجھے یہ بل دیکھ کر یقین نہ آیا کیونکہ میرا بِل ہمیشہ 800درہم سے 1000درہم کے درمیان آتا تھا۔ اس سے زیادہ کبھی نہیں آیا کیونکہ میں بجلی استعمال کرنے کے معاملے میں ہمیشہ احتیاط سے کام لیتا تھا۔

جب میں محکمے والوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ مارچ 2017ء میں میٹر ریڈر کی جانب سے چیکنگ کیے جانے پر پتا چلا تھا کہ میٹر سلو چل رہا ہے، جس کے بعد یہ خراب میٹر اُتار کر نیا میٹر لگا دیا گیا۔ ریڈنگ پُوری نوٹ نہ ہونے کے باعث مجھے پُرانے بِلوں کے کھاتے میں یہ بِل بھیجا گیا ہے۔ مجھے حیرانی اس بات پر ہوئی کہ 2018ء میں مجھے بتایا گیا کہ میرا میٹر مارچ 2017ء میں تبدیل کر دیاگیا تھا، کتنی عجیب بات ہے کہ میٹر تبدیل کرتے وقت مجھے اس کی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔

حتیٰ کہ میٹر تبدیلی کی اطلاع کسی نوٹس یا ایس ایم ایس کے ذریعے دی جا سکتی تھی مگر ایسا بھی نہیں کیا گیا۔ چونکہ یہ رقم بہت زیادہ تھی اس لیے میں نے رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیے جنوری 2018ء میں یہ اپارٹمنٹ چھوڑ دیا۔ اگرچہ یہ بل میرے ذمے تھا مجھے اس کی ادائیگی کرنا تھی۔ لیکن اس بات پر غصہ آیا کہ اگر میٹر خراب تھا تو فوراً تبدیل کیوں نہیں کیا گیا، اس کے لیے دو سال کا انتظار کیوں کیا گیا۔

حالانکہ میٹر ریڈر ہر مہینے ریڈنگ نوٹ کرنے آتا ہے، خراب میٹر کی صورت میں اُسے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ مجھے بھی اطلاع کرنی چاہیے تھے۔ میں نے کچھ عرصہ قبل شارجہ الیکٹریسٹی اتھارٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے میرے بِل میں صرف 3,148 درہم کی کمی کی اور 13,375 درہم کا بِل ایڈجسٹ کر کے بھیج دیا۔میں نے ہمیشہ بل بروقت ادا کیا۔ میں نے اس معمولی سی ایڈجسمنٹ پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے ہیڈ آفس میں کسٹمر ریلیشنز افسر سے بھی ملاقات کی۔

اُس نے بھی میرا ہی قصور نکال دیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ یہ میری غلطی تھی کہ میں نے اپنے بِل کیوں نہیں چیک کیے۔ اس کا کیا مطلب ہے، میں نے جب ہمیشہ بل میں درج رقم ادا کر دی، تو پھر میں غلط کیسے ہو گیا۔ سارا کا سارا قصور ڈیپارٹمنٹ اور میٹرریڈر کا ہے۔ یہ اُنہی کی ذمہ داری تھی کہ میٹر خراب ہونے کی صورت میں اسے دو سال کی بجائے فوری طور پر نئے میٹر سے بدل دیتے۔

” محمد سلیمان عارف نے اخبار کے ایڈیٹر سے استدعا کی کہ وہ ایک کم تنخواہ لینے والا ملازم ہے، اخبار کی جانب سے اُس کا معاملہ اُٹھا کر اُس کی مدد کرنی چاہیے۔ اخبار کے ایڈیٹر نے بتایا کہ اخبارکی وساطت سے یہ شکایت الیکٹریسٹی اتھارٹی کو بھجوائی گئی ہے تاہم متعدد بار کی یاددہانی کے باوجود مینجمنٹ کی جانب سے اس پر کوئی جواب نہیں دِیا گیا۔

شارجہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments