شارجہ ؛ آجر نے ملازمہ کیخلاف اس کے کپڑے پہننے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر مقدمہ کردیا

آجر نے 32 سالہ افریقی ملازمہ پر سونے کا کڑا چوری کرنے ، رازداری کی خلاف ورزی کرنے ، اس کے کپڑے و دیگر اشیاء پہننے اور سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کرنے کا الزام بھی لگایا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 2 دسمبر 2021 12:01

شارجہ ؛ آجر نے ملازمہ کیخلاف اس کے کپڑے پہننے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر مقدمہ کردیا
شارجہ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 02 دسمبر 2021ء ) متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ میں ایک آجر نے ملازمہ پر اس کے کپڑے پہننے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر مقدمہ کردیا ۔ اماراتی میڈیا کے مطابق ایک 32 سالہ افریقی ملازمہ پر شارجہ کی بدعنوانی کی عدالت میں اپنے آجر کے گھر سے سونے کا کڑا چوری کرنے کا الزام ہے ، آجر نے ملازمہ پر اس کی رازداری کی خلاف ورزی کرنے، اس کے کپڑے و دیگر اشیاء پہننے اور پھر سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کرنے کا الزام بھی لگایا۔

پبلک پراسیکیوشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزمہ تین سال سے ایک خاندان کے لیے کام کر رہی ہے ، آجر نے ایک دن محسوس کیا کہ اس کا سونے کا کڑا غائب ہے اور اس نے اپنی گھریلو ملازمہ سے پوچھا ، جس نے اس کے بارے میں کسی علم سے انکار کیا لیکن آجر کو اس کی نوکرانی پر چوری کا شبہ تھا ، جس کی وجہ سے اس نے نوکرانی کے سامان کی تلاشی لی۔

(جاری ہے)

جب شکایت کنندہ کو ملزم سے اس کے بیگ سے چوری شدہ چیز ملی تو اس نے اس سے انکار کیا اور اپنے خلاف چوری کے الزام پر حیرت کا اظہار کیا۔ شکایت کنندہ نے مواد کا جائزہ لینے کے لیے نوکرانی کا فون لیا تو اسے اپنی نوکرانی کی تصاویر ملیں جن میں وہ اس کے کپڑے اور زیورات پہنے ہوئے ہے اور اس نے ان تصاویر کو اپنے خاندان اور دوستوں کے گروپ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا ہوا تھا۔

نوکرانی نے شکایت کنندہ کے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے یہ تصاویر گھر اپنے دوست اور اہل خانہ کو دکھانے کے لیے لی تھیں ، ملازمہ نے کہا کہ اس نے شکایت کنندہ کی گھر میں غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے کپڑے اور زیورات پہن کر تصاویر بنائیں کہ وہ یہ تصویریں اپنے خاندان، دوستوں اور اپنے بوائے فرینڈ کو بھیجے گی تاکہ انہیں وہ معیار زندگی دکھا سکے جس سے وہ لطف اندوز ہوتی ہے۔ شارجہ کی بدعنوانی کی عدالت میں پیش ہونے والی ملزمہ نے چوری کے الزام سے انکار کیا اور کہا کہ تصاویر گھر کے مالکان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کے ارادے سے نہیں لی گئیں ، وہ انہیں صرف یادداشت کے لیے رکھنا چاہتی تھی۔

شارجہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments