برطانیہ نے پاکستان سے آنے والے مسافروں کیلئے نئی گائیڈلائنز جاری کردیں

پاکستان سے آنے والے مسافروں کو پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہو گا اور برطانیہ پہنچ کر گھر میں قرنطینہ کرنا ہوگا، برطانوی حکام

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری پیر 20 ستمبر 2021 23:09

برطانیہ نے پاکستان سے آنے والے مسافروں کیلئے نئی گائیڈلائنز جاری کردیں
لندن (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20 ستمبر 2021ء) پاکستان سے آنے والے مسافروں کو پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہو گا اور برطانیہ پہنچ کر گھر میں قرنطینہ کرنا ہوگا، برطانیہ نے پاکستان سے آنیوالوں کیلئے نئی گائیڈلائنز جاری کردیں- تفصیلات کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ 22 ستمبرکے بعد پاکستان سے ویکسین لگوا کر آنے والے افراد کو گھر پر قرنطینہ کرنا پڑےگا۔

قرنطینہ کی شرط کی وجہ یہ بتائی گئی ہےکہ برطانیہ پاکستان میں لگائی جانے والی بیشتر ویکسینز کو تسلیم نہیں کرتا اور برطانیہ کو تسلیم شدہ ویکسینز کے معیار کا مسئلہ نہیں ہے تاہم اسے پاکستان میں ویکسینیشن کے سرٹیفکیٹ کے اجرا پر تحفظات ہیں۔ برطانیہ نےکہا ہےکہ حکومت پاکستان سرٹیفکیٹ کے اجرا کا ایسا نظام بنائے جو برطانیہ کے لیے بھی قابل قبول ہو۔

(جاری ہے)

نئی گائیڈ لائنز کے مطابق پاکستان سے ویکسین لگوانے والوں کو 22 ستمبر کے بعد آنے پر بھی پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا اور لوکیٹر فارم بھرنا ہوگا۔ پھر برطانیہ پہنچ کر انہیں قرنطینہ کرنا ہوگا، پانچویں روز وہ پی سی آر ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے پر قرنطینہ ختم کرسکیں گے۔ ذرائع کے مطابق4 اکتوبر کے بعد امکان ہےکہ برطانیہ منظور شدہ ویکسینز کے سرٹیفکیٹ کو تسلیم کرلے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں ہی برطانیہ نے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے نکالا ہے، اس سے قبل پاکستان سے آنے والے افراد کو 10 دن کے لیے ہوٹل میں قرنطینہ کرنا پڑتا تھا جس کے اخراجات کی مد میں انہیں 2285 پاؤنڈز (5 لاکھ 27 ہزار روپے پاکستانی ) اضافی ادا کرنے پڑتے تھے۔ پاکستان کے برطانیہ کی سفری ریڈ لسٹ سے نکلنے کے بعد وفاقی وزرا نے بھی خیر مقدم کیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کو امید تھی کہ اسے برطانوی حکومت کی جانب سے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے گذشتہ ماہ ہی نکال دیا جائے گا، تاہم 26 اگست کو کیے گئے اعلان میں پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھا گیا تھا۔ برطانوی حکومت نے رواں سال 9 اپریل سے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کر رکھا تھا۔

لندن میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments