Ibadat, Riyazat Aur Duniya Daari

عبادت،ریاضت اور دنیا داری۔۔۔تحریر:ارشد سلہری

جب مایوس ہوتے ہیں۔ ہمیں کوئی حاجت ہوتی ہے۔ یا کسی حاجت کی کمی ہوتی ہے۔ جیسے بیماری،غربت،مشکل،کوئی غم ہو توہم دعا کرتے ہیں۔ روتے ہیں۔ مطلب ہم آخری سہارے کے طور اپنے خداسے رجوع کرتے ہیں

پیر اگست

ibadat, riyazat aur duniya daari
عبادات اور مراقبے کا مقصد خدا کو راضی کرنے کی بجائے خدائی صفات اور قوت کا حصول ہونا چاہیئے۔ جب آپ عبادات اور مراقبے یکسوئی کے ساتھ کرتے ہیں تو پھر آپ خدائی صفات کے حامل ہوجاتے ہیں تو آپ اپنی کیا دوسروں کی تقدیر اور مقدر بدلنے پر بھی قا در ہوجاتے ہیں۔ اولیا اللہ کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ خدائی صفات کے حصول کامقصد اس قدرت کا حامل ہونا ہے جس سے خدا کی مخلوق کی مدد کی جا سکے اور لوگوں کو دکھوں،پریشانیوں اور مشکلات سے نجات دلا ئی جا سکے۔
مذہب کی تعلیم کا مقصد بھی یہی ہے کہ انسان اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو۔ نیکی اور اچھائی کا عملی نمونہ پیش کرے۔ دنیا کے تمام مذاہب اخلاقیات کی تعمیر کرتے ہیں تاکہ ایک پرامن اور خوشحال معاشرے کا قیام عمل میں لایا جائے۔

لوگوں کے دکھ درد کا مداوا کیا جا سکے۔ دنیاداری ہی اصل ہے۔ خدا،مذہب،روحانیت کا تعلق دنیاداری سے ہے۔ یہی وجہ کہ دنیا کو خدائی بھی کہتے ہیں۔

حقیقت میں یہ دنیا نہیں بلکہ خدائی ہے۔ فرد کی خاص اہمیت ہے۔ بندے کیلئے خدا کی ہستی یہ کارخانہ چلا رہی ہے۔ کائنات ارضی میں خدا نے امن،محبت اور صلح کیلئے اپنے بندوں کو ہی فرائض سونپے کہ اٹھو اور میرے بندوں کو میرا پیغام دوکہ ایک دوسرے سے نیکی کریں۔ بدی سے توبہ کریں۔ اپنے اعمال درست کریں۔ اللہ کے ماموران نے خدائی قانون کے مطابق سیدھی راہ دیکھائی اور سیدھی راہ پر چلنے کی تلقین کیلئے مقدس کتابیں بھی بندے کے ہاتھ میں دے دی کہ سبق خود بھی یاد کریں اور دوسروں کو یاد کرنے کی ہدایت کریں۔
زیارت کرنا:۔ نیک بندوں سے ملنا۔ ان کی زیارت کرنا ان کے پاس بیٹھنا بھی عبادت کا جزوی عنصر ہے۔ جس سے ملنے والے پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور تقلد پیدا ہوتا ہے۔ اچھائی کی رغبت بڑھتی ہے۔ حانقاہوں،مزارات کی زیارت سے بندے پرخدائی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تکبر،رعونت اور بقا کو ضرب لگتی ہے۔ بندے کو اپنی اصل میں آنے کی ترغیب ملتی ہے۔ نرمی،متانت اور محبت عود آتی ہے۔
خانقاہیں،مزارات اور آستانے انسان دوستی کے مراکز ہیں۔ جس کی نسبت کسی آستانے سے ہے۔ گھر بھی رہے تو اسے فیض ملتا رہے گا۔ آستانوں پر حاضری سے اس کے اندر انسان دوستی کے جذبات کو جلا بخشتی ہے۔ نیکی،اچھائی اور بھلائی کے جوہر پیدا کرتی ہے۔ بندہ کئی مرادیں اور منزلیں پالیتا ہے۔ اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا ہوتی ہے۔ اور جب من صاف ہوتا ہے تو اس میں قوت ایمانی پیدا ہوتی ہے۔
بندہ پھر اپنے من کی قوتیں کام میں لاکر بندے کے دکھ درد اور تکلیفیں دور کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ کرم:۔ کرم خدائی قانون ہے۔ جس کا مطلب جدوجہد کرنا ہے۔ اپنی تقدیر،اپنی قسمت،اپنے نصیب بدلنے کی مساعی کرنا ہی کرم کہلاتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ خدا کرم فرما دے۔ اس کا مطلب یہی ہونا چاہیئے کہ ہمیں اپنے حالات کار بدلنے پر قادر کردے۔ ہمیں قوت دے کہ ہم اپنی جدوجہد سے اپنی تقدیر بدل دیں۔
ہمارے اعمال اور معاملات ہی کرم ہیں۔ اگر ہم اچھے اعمال و افعال انجام دیں گے تو کرم بھی اچھے ہونگے۔ کرم بدلنے کا بہترین طریقہ دعا کی بجائے اپنے اعمال و افعال کی درستگی ہے۔ اچھے اعمال و افعال کرنے سے کرم بدل جائیں گے۔ بندے کے کام،سرگرمیاں،معاملات بندے کے کرم ہیں۔ دعا:۔ جب مایوس ہوتے ہیں۔ ہمیں کوئی حاجت ہوتی ہے۔ یا کسی حاجت کی کمی ہوتی ہے۔
جیسے بیماری،غربت،مشکل،کوئی غم ہو توہم دعا کرتے ہیں۔ روتے ہیں۔ مطلب ہم آخری سہارے کے طور اپنے خداسے رجوع کرتے ہیں۔ دعاقبول کیسے ہوتی ہے۔ جب ہمارا من سچا اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ من سچا اور پاکیزہ اعمال و افعال کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جب ہمارے معاملات اچھے ہوتے ہیں۔ تب اگر دعا کی حاجت ہوتو دعا قبول ہوتی ہے۔ دعا کبھی رد نہیں ہوتی ہے بلکہ اعمال و فعال کی بنیادپر قبولیت کے وقت کے انتظار میں رہتی ہے۔ جب بندہ اپنی اصلاح کرلیتا ہے تو دعائیں قبول ہوجاتی ہیں۔ دکھ درد ختم ہو جاتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments