Isi Mein Nijat Hai

اسی میں نجات ہے۔

دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے اپنی انگلی کتاب کے عین وسط کے صفحوں کے قریب سرکائی اور یکلخت کتاب کو کھول دیا۔ روشنیوں کا ایک سمندر تھا جو دفعتاً اس کے نورانی صفحوں سے پھوٹ پڑا

تثمیر بخت جمعہ نومبر

isi mein nijat hai
آنکھیں اچانک سے وا ہونے پر اس نے ایک منظر دیکھا،شیشے سے بھی زیادہ شفاف؛جیسے کسی ڈرون کا جدید ترین کیمرہ اوپر سے نیچے کا منظر محفوظ کر رہا ہو۔۔۔مگر یہ آنکھ تھی،اس سے بھی کہیں بہتر دیکھنے والی۔''یہ سب آخر کیوں رو رہے ہیں؟''خود سے اس کا سوال ایک جواب اور مزید کئی سوالات میں بدل گیا جب اس نے ان سب کے درمیان سفید کفن میں لپٹا ایک جسم دیکھا۔
''کوئی مر گیا ہے!''،اُسے پہلے تو افسوس ہوا۔۔کشمکش یہ کہ ان سب چہروں کو وہ اچھے سے جانتا تھا۔اسے سخت تجسس ہونے لگا۔ ''لیکن یہ کون ہے جو جدا ہو گیا،میرے سب پیاروں اور جاننے والوں کو روتا چھوڑ گیا؟'' ایک اور سوال مگر کشمکش کا عالم۔۔۔ غور کرنے پر اس پر ایک اور عجیب و غریب حقیقت آشکار ہوئی جس پر وہ سٹپٹا سا گیا۔ ''اور یہ میں ہوا میں بن پر کے پرندوں کی طرح کیسے معلق ہو گیا؟''اس نے خود سے سوال کیا۔

ادھر اُدھر نظر دوڑائی جیسے اس کی حالت دیکھ کر کوئی آنکھوں میں استفہام لئے آئے،حیرانی سے اس کا چہرہ تکے اور پوچھے کہ اڑان کب سے بھرنے لگے،یہ کیا شعبدہ بازی ہے!مگر نہیں۔۔کوئی نہیں آیا،شاید جانے والے کی وجہ سے لوگ اس قدر رنج میں ہیں کہ اپنے ارد گرد دھیان ہی نہیں دے پا رہے،اس نے سوچا۔ عجب کیفیت تھی،کوئی سدھ سمجھ نہیں لگتی۔ اب کی بار اس نے نیچے دیکھا۔
۔۔چہرے سے آخری جھلک کے لئے کفن ہٹایا گیا تو مرد و زن کی سسکاریاں بلند ہونے لگیں،سب اوپر کو امڈ آئے تھے۔ اس کی چہرہ دیکھنے کی کوشش ناکام رہی مگر وہ یک ٹک دیکھے گیا۔ جانے کیوں اس کا دل بوجھل سا ہونے لگا۔یہ تو اک اٹل حقیقت ہے کہ ایک دن سب کی حیات کا تار ان کے بدن سے کٹ جانا ہے مگر۔۔۔ ''نعرہ تکبیر!'' کی گونج کے ساتھ ہی اس نے سر جھٹکا اور خیالات کی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
چارپائی کے ایک کونے پر آنسو پونچھتے اپنے چھوٹے چچا جان کو میت کو کندھا دیتے دیکھ کر اس کے حلق میں کانٹے سے چبھنے لگے۔ ''کیوں رو رہے ہیں،کون ہے یہ؟''اس سے رہا نہ گیا مگر اس کی سسکاری کو کسی نے نہیں سنا۔ ہلکے سے جھٹکے سے کپڑہ ذرا سا سرکا اور جیسے برفانی لہر کی سنسناہٹ اس کی ریڑھ کی ہڈی سے سرایت کرتی پور پور تک پھیل گئی اس کے اندر تیز طوفانی جھکڑ چلنے لگے۔
۔ اپنا چہرہ کون بھول سکتا ہے؟ وہی بند آنکھوں پہ لمبی پلکیں،بائیں گال کے نیچے مندمل زخم کا نشان۔ ''یہ کفن میں میرا وجود، تو میں کون ہوں؟ یہ کیسے ہوگیا؟ سب جیسے منجمد ہونے لگا۔۔۔ اس کی سسکیاں اور آنسو کسے نے نہ سنیں نہ دیکھے،وہ سب دیکھ رہا تھا،مگر سب کو روکنے کی جستجو کرنا بھی بے سود رہا،''کوئی سنتا کیوں نہیں مجھے؟'' اور وہ اس کا بے جان وجود اٹھا کر چلتے رہے۔
۔ اندھیرے کی طرف،کالے رنگ کی طرف جو ماں کے شکم میں بھی اس کے ساتھ تھا اور اب قبر میں بھی اس کے ساتھ ہو گا۔وہی ایک رنگ کالا جو ازل سے تھا اور ابد تک رہے گا،ہر رنگ کا آغاز ہر رنگ کا انت اور انجام،واحد سُچا رنگ۔ اس کو منزل دکھ رہی تھی،بیس فٹ گہرا گڑھا،کالے کالے بڑے دیو ہیکل چیونٹے اور حشرات الارض وحشت بڑھنے لگی،جب دل کو دینے کے لئے کوئی دلاسہ نہ ہو تب،اس وقت دم گھٹتا ہے جگر کٹ جاتا ہے۔
۔۔دم گھٹ رہا تھا۔۔۔ اچانک سے جب منوں مٹی تلے جسم دب گیا تو اک بجلی سی کوندی اور وہ جو ہوا میں معلق تھا اب جسم میں دوبارہ سرایت کر گیا۔اب وہ پھر سے ''زندہ'' ہو گیا تھا مگر ہلنے جلنے سے قاصر،عجب بے بسی تھی،دم گھٹ رہا تھا۔۔۔ سب جا چکے تھے اور اگر نہ بھی گئے ہوتے تو مٹی کی اتنی تہوں کے پار اس کی آواز کیونکر جاتی؟اب وہ بول سکتا تھا،چلا سکتا تھا مگر کس کو پکارتا ''یا اللہ!''،اس کی بائیں آنکھ کے کونے سے آنسو کا قطرہ پھسل گیا،کیا کچھ بند نہیں تھا اس ایک نمکین قطرے میں۔
اس نے ہاتھ پاؤں مارنا چھوڑ دیے۔ دفعتاً اس کے ذہن میں دھماکا سا ہوا اور دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے جان لگا کر دایاں ہاتھ کچھ تلاشنے کو سرکایا، آہ،آنسو،امید، اندھیرا، اللہ۔ ایک کتابچہ یا شاید کتاب نما کوئی چیز اس کے ہاتھ سے ٹکرائی جسے اس نے مضبوطی سے تھام لیا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے اپنی انگلی کتاب کے عین وسط کے صفحوں کے قریب سرکائی اور یکلخت کتاب کو کھول دیا۔
روشنیوں کا ایک سمندر تھا جو دفعتاً اس کے نورانی صفحوں سے پھوٹ پڑا۔آنکھوں کو خیرہ کرتی ہوئی تابناک شعائیں اندھیری گور کو تاحد نظر وسیع کرتی،پھیلتی چلی گئیں۔۔ اب منظر بہت مختلف تھا اور وہ جو بے بسی کے پہاڑ تلے دبا تھا،سرشار نظر آنے لگا،ان دودھیا اور ہلکی گلابی روشنیوں سے جو اس کا احاطہ کیے ہوئے تھیں اور سارے بوجھ اور اندھیرے کو ہوا میں کہیں غائب کر گئیں۔
مست ہوائیں تھیں جو خوبصورت اور پر سکون ٹھکانے کا پروانہ لائی تھیں اور ان سب میں وہ پہلے کی طرح معلق تھا۔ کافوری خوشبوؤں کا ایک سیلاب اُمڈ آیا،اس نے روشنی کا ایک گولا دیکھا، دودھیا،سفید اور چمکدار۔ سونے،چاندی اور ہیروں کی چمک اور آب و تاب اپنی زندگی میں وہ کئی مرتبہ دیکھ چکا تھا مگر یہ مختلف چمک تھی۔جیسے راستوں کا اختتام ہو جائے اور مسافر کو دوام مل جائے ویسا سکون پرور اور روح پرور احساس دلانے والی چمک۔
وہ یک ٹک دیکھے گیا۔۔۔ گولا قریب آ کر رک گیا اور وہ مبہوت اپنا سر اُٹھائے بنا پلک جھپکے دیکھے گیا،جیسے اس کی کل بصارت و سماعت کا محور وہی ہو اور مکلمل توجہ اس لمحے میں سمٹ کر اسی نقطے پر مرکوز ہو گئی ہو۔وہ ہمہ تن گوش تھا اور اس نے سنا:''اذکرونی فاذکروکم'' تب اس کی آنکھ کھلی تو اس کے اشکوں سے تکیہ بھیگ چکا تھا۔ راز سب پر کھلتے ہیں،زندگی میں سچائی اور کھری حقیقت سب پر ایک مرتبہ کسی نہ کسی طور آشکار ہوتی ہے۔حقیقت بتلا دی جاتی ہے،رستہ دکھایا جاتا ہے مگر اس پر چلنا ہمارا کام ہے۔ ''الم۔نہیں کوئی شک اس میں یہ کتابِ ہدایت ہے متقی لوگوں کے لئے۔''(القرآن)

Your Thoughts and Comments