Khana Khane K Adaab

کھانا کھانے کے آداب

جس شخص نے کھانا کھانے کے بعد کہا۔ یعنی تمام تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے کھانا کھلایا اور میری طاقت اور زور کے بغیر یہ مرحمت فرمایا،تو اُس شخص کے پہلے سارے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔

ہفتہ مارچ

Khana Khane K Adaab
حافظ عزیز احمد
حضرت معاذبن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کھانا کھانے کے بعد کہا۔ یعنی تمام تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے کھانا کھلایا اور میری طاقت اور زور کے بغیر یہ مرحمت فرمایا،تو اُس شخص کے پہلے سارے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
(رواہ ابو داؤد)
محترم سامعین : آج کی زیر مطالعہ حدیث جسے امام ابوداؤد رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی سنن میں حضرت معاذبن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے، ایک نہایت بنیادی اور اساسی تعلیم وادب پر مشتمل ہے۔ جس کا تعلق ہمارے روزمرہ کے کھانا کھانے یا خوراک کے طور پر استعمال کی جانے والی ہر نعمت سے ہے۔ اور یہ کہ بظاہر ایک چھوٹے عمل سے بہت بڑااجروثواب حاصل کیاجاسکتا ہے۔

ہم میں سے ہر آدمی ہر دن میں کئی بار اللہ رب العزت کی عطا کر دہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ جس میں اناج، پھل فروٹ، سبزیاں اور سینکڑوں قسم کے مشروبات شامل ہیں۔ مردو عورت اور بچے بوڑھے سب ہی انہیں استعمال میں لاتے ہیں۔ اور سب ہی جانتے ہیں کہ ان متنوع قسم کی نعمتوں کو پیدا کرنے اور وجود میں لانے والی ذات صرف خالق کائنات جل مجدہ کی ہے۔
پانی ،مٹی ، ہوا اور روشنی جوان تمام اشیاء کی روئیدگی میں بنیادی اور موٴثر کردارادا کرتی ہیں سب کو وجود بخشنے والا ایک اللہ ہے۔ کوئی بھی شخص پانی کا ایک قطرہ نہیں بناسکتا، کوئی بھی سائنسدان، انجینئر اور دانشوراناج کا ایک دانہ بنانے پر قدرت نہیں رکھتا۔ زمین کی گود کو فصلوں اور قسم وقسم کے اناجوں سے ہرابھرا کرنے والا ایک اللہ ہے۔
درختوں اور بیلوں پر انواع واقسام کے پھل فروٹ سجانے والا بھلا اللہ کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے۔بیج سے لے کراناجوں، پھلوں اور سبزیوں کو موجودہ شکلوں میں ڈھالنے تک کسی بھی انسان کا کوئی بس نہیں چلتا۔ قدرت الٰہی کا خفیہ ہاتھ انہیں دلفریب صورتوں اور خوش کن شکلوں میں ڈھال کر حضرت انسان کے حوالے کر دیتا ہے جو اُس کے لذت کام ودھن کاسبب بنتے ہیں۔
یہ سب صورتحال اللہ کی نشانیوں میں سے بہت بڑی نشانی ہے۔ جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سامعین باتمکین ! حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا ہے کہ جب ایک موٴمن آدمی ان میں سے کسی بھی نعمت سے لطف اندوز ہوتو کسی بے فکرے اور بے پروا آدمی کی طرح بے رُخی کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ جسم وجان سے اللہ کی نعمتوں کا شکراداکرے۔
اور زبان سے اقرار کرے کہ شکر کے سارے زاویے اس ربّ ذوالجلال کے لئے ہیں جس نے مجھے کھانے کی یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور میری طاقت اور زور کے بغیر عطا فرمائیں۔ اس اقرار سے نہ صرف یہ کہ نعمت کا شکرادا ہوگا بلکہ حدیث پاک میں یہ مژدہ اور خوشخبری سنائی گئی ہے کہ اُس شخص کے پچھلے سب صغیرہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ آپ نے اندازہ لگایاکہ شکر گزاری کا مخلصانہ اقرار اللہ پاک کے ہاں کتنی منزلت اور مقام رکھتا ہے۔
مگر انسان ہے کہ اس موقع سے عموماً فائدہ اٹھانا بھول جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شکرگزاری کافریضہ بھی ادا نہیں کرپاتا اور گناہوں کی بخشش کا زرین لمحہ بھی کھودیتا ہے۔احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ معلم انسانیت رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا تناول فرمالینے کے بعد مختلف قسم کے کلمات سے اللہ جل جلالہ کی حمد اور اُس کا شکر ادا فرماتے تھے۔
شمائل ترمذی میں حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو پڑھ کر اللہ کاشکر ادا فرماتے۔ یادرکھنا چاہئے کہ بندے کی یہ ادا، اللہ رب العزت کو بہت ہی پسند ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث شریف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ بندے کی اس ادا سے بہت خوش ہوتا ہے جب وہ کھانا کھا کر اور پانی پی کر اس کی تعریف اور شکر ادا کرے ۔

اگر کوئی شخص پوری دعا پڑھنے سے قاصر ہویا اُسے یاد نہ ہوتو کم ازکم الحمد اللہ توزبان سے ضرور ادا کردے۔ امید ہے کہ رب ذوالجلال اس پر بھی اجروثواب عطا فرمادے گا مگر مکمل اجروثواب کے لئے بڑی دعا ہی مطلوب ہے۔
گرامی قدر سامعین : کھانا پینا چونکہ انسان کی بنیادی اور ہم ترین ضرورت ہے، اس لئے دین اسلام نے اس ضمن میں نہایت جامع آداب کاتذکرہ کیا ہے اور توقع کی گئی ہے کہ اہل ایمان ان کی پابندی کریں گے۔
مثلاً (1) کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا۔ (2) کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا۔ (3) داہنے ہاتھ سے کھانا (4) اپنے سامنے کی طرف سے کھانا۔ (5) چھوٹا نوالہ لینا۔ (6) نوالے کو اچھی طرح چبانا۔ (7)چبانے کی آواز کو دبالینا۔(8) کھانے کو ضائع نہ کرنا۔(9) ضرورت کے مطابق کھانالینا۔(10) نوالہ ہاتھ سے چھوٹ کر دسترخوان پر گرجائے تو اُسے شیطان کے لئے نہ چھوڑنا بلکہ خود استعمال کرلینا۔
(11) سالن وغیرہ کی پلیٹ کو اچھی طرح صاف کرنا۔(12) کھانے کے چھوٹے چھوٹے ذرات کو کھا لینا کیونکہ کھانا صرف پیٹ بھرنے کے لئے نہیں بلکہ برکت کے حاصل کرنے کا بھی سبب ہے اور کون جانتا ہے کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے۔(13) کھانا کھانے کے بعد اگر ضرورت ہوتوانگلیوں کو چاٹ لینا۔(14) کھاناکھانے سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لینا ۔ اور نمبر(15) اختتامی دعا پڑھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا۔
اگر آغاز میں بسم اللہ پڑھنا یاد نہ رہا ہوتو جب بھی کھانے کے دوران یاد آئے تو بسم اللہ اولہ وآخرہ پڑھنا۔
بہتر ہے کہ سب گھر والے ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر اجتماعی طور پر کھانا کھائیں ۔ایک تو اس میں برکت ہے اور دوسرے چھوٹے بچوں کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے ۔بچپن ہی میں یہ آداب اگر ذہن نشین ہو جائیں گے تو ان شاء اللہ عمر بھر نہیں بھولیں گے ۔
بظاہر لگتاہے کہ یہ باتیں چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن اسلامی معاشرتی زندگی میں ان کی اہمیت بڑھی ہوئی ہے اور ان کی وہی حیثیت ہے جو ایک بلند وبالا بلڈنگ کے لئے بنیاد کی ہے۔ بسم اللہ کی برکت یہ ہے کہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے پڑھ لی جائے تو شیطان اس میں داخل نہیں ہوسکتا اور اگر کھانے سے پہلے پڑھ لی جائے تو شیطان ایسے کھانے کو ہاتھ ڈال کر بے برکت نہیں کرسکتا۔ یہ چھوٹے چھوٹے ہی اعمال ہیں مگر ہماری زندگی پر دوررس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اور ایک لمحہ کی غفلت بہت بڑی محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ آداب زندگی ہیں، اسلامی ثقافت وتمدن کی اساس ہیں اور خیروبرکت کا موجب ہیں۔ آئیے وسائل رزق عطا کرنے والے رب سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان آداب کو جرز جان بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Your Thoughts and Comments