Phir Na Shukri Kyun ?

پھر ناشکری کیوں؟۔۔تحریر:صفوراخالد

ھم اپنے مالک کی کس کس نعمت کا شکر ادا کریں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ھم ہرحال میں شکر ادا کریں۔محرومیوں کوپسِ پشت ڈال کر سب مثبت چیزوں کے بارے میں سوچیں جو محرومیوں کی تلافی کے لیے بہت زیادہ ہیں

جمعہ نومبر

phir na shukri kyun ?
زندگی کی بھاگ دوڑ میں ھم اپنے اردگرد دیکھنا بھول جاتے ھیں۔ھم اپنے کاموں میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ اگر نظر کسی پر پڑ بھی جائے تو ایک لمحے کو رک کے دیکھنا تو ایک طرف سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ایسی ہی ایک مصروف شام تھی بارش کا موسم تھا۔ مٹی کوڑے اور پانی کی آمیزش سے تیار کیچڑ نے پوری سڑک پر لیپ کر رکھا تھا۔جس سے گزرنے والے اپنے پائنچے پاؤں اور جوتے بچا کر چل رہے تھے۔
بوسیدہ سڑک پر موجود گڑھوں میں گدلا پانی جمع تھا۔اور غلطی سے اس گڑھے سے بے خبر کسی کا پاؤں اس میں پڑ جاتا تو ایک ناگوار سا تاثر چہرے پر نمایاں نظر آتا۔ میں بھی اپنے پاؤں اور جوتے بچاتی انسانی فطرت کے عین مطابق زندگی کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں منفی پہلوؤں کو خود پر سوار کیے مایوسیوں اور فکروں میں ڈوبی ایک وین کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک نظر سڑک کے اس پار پڑی ایک لمحے کو سانس رک گیا، رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

ایک لڑکا جس کی عمر بمشکل سولہ سترہ برس ہو گی،سفید رنگت جس پر میل نے نقش و نگار بنا رکھے تھے۔جگہ جگہ سے پھٹے بوسیدہ لباس وہ اپنے ادھورے وجود کو سڑک پر گھسیٹ رہا تھا۔ وہ کیچڑ مٹی سے بے خبر تو ظاہر ہے نہیں ہو گا مگر وہ اس سب سے بے پرواہ خود کو گھسیٹے جا رہا تھا اور ہر آنے جانے والے سے مدد کا طلبگارتھا۔ جس کیچیڑ میں ہم اپنا جوتا تک بچا کر چلتے ہیں ایک بے جان چیز جسے شیشے کے فریم میں بھی رکھا جائے تو بھی اُسے محسوس نہیں ہو گا اور کیچیڑ میں ڈال دیں تو بھی۔
۔۔مگر میں ایک انسان کو ایک جیتے جاگتے انسان کو کیچیڑ میں لت پت ہر ایک سے مدد کا سوال کرتے دیکھ رہی تھی۔۔ میری تمام سوچیں پل بھر کے لیے ساکت ہوگئیں۔جب باقی لوگوں پر نظر دوڑائی تو سب ایک دوسرے سے بے خبر اپنی فکروں میں ڈوبے زندگی کے ساتھ دوڑ رہے تھے۔میری روح تک کانپ گئی تھی کسی نے مجھے جھنجھوڑا کہ دیکھ اپنا وجود اور اس کا وجود!کیا کمی ہے تجھ میں؟کیا نہیں ہے تیرے پاس؟تو کس بات کی ناشکری ہے؟اس وقت بزرگوں کی بات دماغ میں گھوم گئی کہ ہمیشہ دنیاوی معاملات میں خود سے نیچے دیکھو کیوں کہ ایسا کرنے سے ہی انسان حق تعالٰی کا شکر گزار اور اپنے حالات سے خوش رہ سکتا ہے۔
میں نیاپنا جائزہ لیا۔۔میں چل سکتی ہوں کسی کی محتاج نہیں عزت سے بھیگ مانگے بغیر کھانا پینا میسر ہے سب سوچ کرثابت یہ ہواکہ میرے پاس شکر کرنے کے لیے بے شمار نعمتیں موجود ہیں۔ پروردگار نے بہت بہتر حال میں مجھے رکھا ھوا ھے۔ میں وین میں بیٹھ چکی تھی اورکھڑکی سیلگی ابھی تک اس پرنظریں جمائے ہوئی تھیں میں جا کر اس کی مدد کرنا چاہتی تھی مگر مجھ میں ہمت نہیں تھی۔
میں اس کی دلجوئی کرنا چاہتی تھی مگر جہاں دل دماغ موم کی طرح پگھل رہے تھے وہیں قدم پتھر ہو گئے تھے۔ میرا دل غمزدہ تھا اُسے دیکھ کر مگر ساتھ ہی کلمہ شکر بھی زبان پر جاری تھا آنکھوں میں کچھ نمی سی اتر آئی تھی میں اپنے رب کی عطاؤں کا شکر تمام عمر کے سجدوں سے بھی ادانہیں کر سکتی۔منفی تاثر دماغ سے جھٹ گیاتھا۔اگرھم یہ سوچ لیں کہ رب کس قدرھم پر مہربان ہیں تو ھم کبھی مایوس نہ ھوں۔
اگرھم یہ موازنہ کرنے کی بجائے کہ''فلاں کے پاس جو کچھ ھے ھمارے پاس نہیں''یہ موازنہ کر لیں کہ''ہم کتنوں سے بہتر ہیں'' تو زندگی بہت آسان اورخوبصورت ہو جائے۔اگر صرف صرف ھم اپنے آپ ہی کو دیکھیں اور سوچیں سانس، بینائی، بولنا، سننا،سلامت ہاتھ پاؤں،صحت کیا کیا گِناجائے یہ سب بھی سوچیں تو سجدہ شکر سے سر نہ اٹھاسکیں۔ ھم اپنے مالک کی کس کس نعمت کا شکر ادا کریں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ھم ہرحال میں شکر ادا کریں۔محرومیوں کوپسِ پشت ڈال کر سب مثبت چیزوں کے بارے میں سوچیں جو محرومیوں کی تلافی کے لیے بہت زیادہ ہیں۔زندگی کو مثبت طریقے سے دیکھنا زندگی کو بہت خوبصورت بنا دیتا ہے۔اور یہ بھی سچ ہے کہ خدا شکر گزار کو بے پناہ نوازتا ہے۔شکرایمان کی پختگی کی علامات میں سے ایک ہے کیونکہ ایک شکر گزار انسان کا ایمان ھوتا ہے کہ خدانہایت مہربان ہے اور خدا نے جس حال میں رکھا ہے اسی میں کچھ بھلائی ہے۔اللہ ہم سب کو شکر ادا کرنیکی توفیق اور پختگیِ ایمان عطا فرمائے۔۔

Your Thoughts and Comments