Tauba Kya Hai Aur Kis Tarah Ki Jaye?

توبہ کیا ہے اور کس طرح کی جائے؟

انسان کی سب سے بڑی جنگ، آزمائش اور امتحان اس کا نفس ھے جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر شیطان بیٹھا ہے اور سر سبز و شاداب خواب دیکھا کہ انسان کی باطنی آنکھ کی بینائی چھین لیتا ہے اور جب آنکھ کھلتی ہے تو بہت دیر ہو چکی ھوتی ھے مگر اے بندے پھر بھی اگر ھدایت تم تک پہنچ گئی ھے تو لوٹ آ میں معاف کرنے والا ھوں، رب کی اس پکار کو سننے والے سر جھکا دیتے ہیں

پروفیسرخورشید اختر ہفتہ مئی

tauba kya hai aur kis tarah ki jaye?

ہر عالم،فاضل اور مفکر توبہ کی ترغیب دیتا ہے اور اسی سے رجوع اللہ کی دعوت دیتا ہے۔ بلکہ مدبر یہ بھی کہتا ہے کہ بد نصیب ہے وہ شخص جو روز توبہ کا دروازہ کھٹکٹائے بغیر سو جاتا ہے،یہ سب کو معلوم ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے روز غلطیاں کرتا ہے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے، سجدے میں گر جاتا ہے اور اس سے معافی مانگتا ہے انبیاء کرام اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عبادت کے لئے کھڑے ہوتے تو قیام، رکوع اور سجود میں امت کی خطاؤں کی معافی مانگتے اور صحابہ،ازواج مطہرات پوچھتیں کہ حضور آپ کیوں اتنی مشقت فرماتے ہیں تو آپ کا جواب ہوتا کہ کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟پھر میری اور آپ کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے،
لیکن سب سے پہلے توبہ کی فزیکل فارم کیا ہوتی ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، توبہ اس عمل کو کہتے ہیں جو کسی غلطی، گناہ کی انجام دہی کے بعد دوڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر عاجزی اور انکساری سے معافی مانگنے اور پھر ایسی غلطی اور گناہ دوبارہ نہ کرنے کا عہد ہے پھر معافی بھی ملتی ہے اور اس عہد کی پاسداری کی کوشش میں بندے کی محنت اور وفا اللہ کا محبوب بنا دیتی ہے، مگر صرف توبہ کی امید سے جان بوجھ کر گناہ کرتے رہنا، بے وفائی ہے اس لئے شاعر نے خوبصورت انداز میں اس کی عکاسی کی تھی کہ''
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے۔


مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو۔
وفاداری اور وہ بھی اپنے رب سے ایک بے مثال کام ہے، مثلاً دیکھیں شراب کی ممانعت کا حکم آیا تو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پیالے ٹوٹ گئے، انسان اس کے باوجود غلطیوں کا خوگر ہے مگر معافی اور توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے چونکہ معافی مانگنا اور مانگنے والے کو عطا کرنا رب کا پسندیدہ عمل ہے۔سابق وزیراعظم پاکستان ظفر اللہ خان جمالی سادہ سے بندے ہیں۔
، قومی سیرت کانفرنس ہو رہی تھی تو انہوں نے کہا کہ میں زیادہ کچھ نہیں جانتا میرے بھائی لیکن ایک نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی کسی کی جان نہیں لینا کیونکہ زندگی دینے اور لینے کا اختیار صرف اللہ کو ہے آپ ایسا کریں گے تو یہ بہت بڑا ظلم ہوگا، اور اللہ کے اختیار میں داخل اندازی ہے جو اسے پسند نہیں، دوسرا کسی کی عزت نہیں چھینانا کیوں کہ عزت و آبرو کا احترام اور جان کی حرمت کعبے سے بھی زیادہ رکھی گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خطبہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ انسانی جان اور عزت کی حفاظت کا درس دیا۔
پھر جمالی صاحب گویا ہوئے کہ کسی کا رزق نہیں چھیننا کیوں کہ رزاق اللہ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔یہ وہ بڑے گناہ ہیں جن کی معافی کا پیمانہ براہ راست انسانیت کے ساتھ جڑا ہے۔اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم کہا ہے اس کی ذاتِ مبارکہ میں کسی کو شریک کرنا بھی بڑا گناہ ہے تاہم شرک چھوڑ کر اللہ کی واحدانیت کا دل و زبان سے اقرار کرنا معافی کا باعث ہے، والدین کے ساتھ بدسلوکی، حسد بغض، کینہ، عہد کا توڑنا، سرعام شعائر اسلام کا مذاق اڑانا، جھگڑا، فساد کا باعث بننا، ناپ تول میں کمی، سود لینا، اور حقوق انسانی کو پامال کرنا بھی بڑے گناہ ہیں ان سے توبہ کر کے چھوڑ دینا نجات کا باعث بن جاتا ہے مگر جان، عزت اور رزق چھیننے جیسے گناہ اسی تناظر میں دیکھے جائیں گے۔

اللہ اپنے فضل وکرم کی صفت کوہمیشہ ھاوی رکھتا ہے کیونکہ انسان اس کی بہترین تخلیق اور اس سے وہ محبت کرتا ھے اور محبت کا تقاضا ہے کہ رحمان کا مطیع رہنا ہے، شیطان کا نہیں، پھر تو دوستی، محبت نہ ھوئی، انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا نفس ھے جو خواھشات نفسانی، اور حرص و طمع میں گھیر کر انسان کو ظاہری و باطنی حرام کاری پر مجبور کرتا ہے انسان کی سب سے بڑی جنگ، آزمائش اور امتحان اس کا نفس ھے جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر شیطان بیٹھا ہے اور سر سبز و شاداب خواب دیکھا کہ انسان کی باطنی آنکھ کی بینائی چھین لیتا ہے اور جب آنکھ کھلتی ہے تو بہت دیر ہو چکی ھوتی ھے مگر اے بندے پھر بھی اگر ھدایت تم تک پہنچ گئی ھے تو لوٹ آ میں معاف کرنے والا ھوں، رب کی اس پکار کو سننے والے سر جھکا دیتے ہیں اور سرکش اور اکڑ جاتے ہیں جن کے لیے دنیا اور آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں! اللہ نہ کرے کہ ھم رسوا ھونے والوں میں سے ھوں بس اپنے رب سے عہد باندھنے اور اس کی استقامت کے لیے کوشاں رہنے کا نام توبہ کی اصل ہے اس لئے پہلے توبہ اور پھر وفاداری۔
۔سفر کٹھن لیکن منزل عظیم ہے کیونکہ کہ رب العالمین بہت عظیم اور اس کی نادر و بے مثال تخلیق انسان بھی عظیم ھے!!!

Your Thoughts and Comments