Kiya Mulk Giri K Bina Bhi Islam Mumkin Hai

کیا ملک گیری کے بناء بھی اصلاح ممکن ہے

مختلف جماعتوں کا انداز فکرمختلف ہوتاہے دور حاضر میں ہمارے اردگردبہت سی سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اپنے منشور اورسوچ وفکر کو پروان چڑھانے کے لے سرگرم عمل ہیں۔ اس معاشرہ میں مختلف خیالات ،مختلف نظریات اورمختلف فنون کے لوگ بستے ہیں ان بنیادوں پر جماعتیں بنتی اور بکھرتی رہتی ہیں ان میں سے بعض جماعتوں کا مقصد صرف غلبہ اورحصول اقتدار حاصل کرنا ہوتاہے ۔جس میں انسانی فلاح و بہبود کے نظریے کو پس پشت ڈال دیا جاتاہے جب طاقت واقتدار کی ہوس سڑانداٹھاتی ہے

Kiya Mulk Giri K Bina Bhi Islam Mumkin Hai
مختلف جماعتوں کا انداز فکرمختلف ہوتاہے دور حاضر میں ہمارے اردگردبہت سی سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اپنے منشور اورسوچ وفکر کو پروان چڑھانے کے لے سرگرم عمل ہیں۔ اس معاشرہ میں مختلف خیالات ،مختلف نظریات اورمختلف فنون کے لوگ بستے ہیں ان بنیادوں پر جماعتیں بنتی اور بکھرتی رہتی ہیں ان میں سے بعض جماعتوں کا مقصد صرف غلبہ اورحصول اقتدار حاصل کرنا ہوتاہے ۔
جس میں انسانی فلاح و بہبود کے نظریے کو پس پشت ڈال دیا جاتاہے جب طاقت واقتدار کی ہوس سڑانداٹھاتی ہے پھرتاریخ گواہ ہے حصول اقتدار کی خاطر ایک ہی مذہب اورایک ہی سوچ فکرکے پیروکار اقتدار کے لیے دوجماعتوں ،دوگرپوں میں تقسیم ہوکر باہم برسر پیکار ہوئے۔ یہودیوں نے یہودیوں کاقتل عام کیا عیسائیوں نے عیسائیوں کے خون کی ندیاں بہائیں ہندووٴں نے ہندووٴں کو زیر کرنے کی سعی کی پھر یہ بھی ہوتا رہا کہ مسلمان ،مسلمانوں کے مقابلے کے لیے نکلے اور ایک دوسرے کے سپاہیوں کے سروں کے مینار تعمیر کرائے۔

یہ سوچے بناکے اس سے سماج کی کیا تباہی ہوگی اورمعاشرت پراس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے بس ہوس اقتدار میں خون کی ندیا ں بہاتے رہے۔حصول طاقت وتخت کا نشئہ ایساسرمست اورخطرناک بنادیتاہے جوبھائیوں کی آنکھیں نکلوادیتا ہے اورباپ کو قید میں ڈلوادیتا ہے ایسا غرور وتکبر میں مبتلاکرتاہے کہ ”انا ربکم الا علیٰ“کانعرہ لگوا دیتا ہے۔چھ سو پچپن ہجری میں ہلاکو خان نے بغداد میں لشکرکشی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بغداد کے اند ر اورباہر جوکچھ ہے تخت وتاراج کردیا جائے۔
مورخین کہتے ہیں ہلاکو خان کے لشکر نے صرف اپنی ہیبت بٹھانے ،کشور کشائی اورلوٹ مار کے شوق میں بیس لاکھ افراد کو قتل کیا اورایک قیامت خیز بھونچال نے پورے شہر کو خاک اورراکھ کا ڈھیر بنادیا ۔اسی طرح جنگ عظیم اول اوردوم میں کروڑوں لوگ ملک گیری کی نذر ہوئے اگر سوچ بدمست ہاتھی کی طرح اپنا رعب و دبدبہ اورچودھراہٹ قائم کرناہو تواس کا لازمی نتیجہ قتل وغارت گری ہی رہے گا۔
لیکن اگر سوچ انسانیت کی بھلائی اور اس کی اصلاح ہے توپھرنظر تخت وتاج پر نہیں بلکہ نظریے پر ہواکرتی ہے ہاں اگر تخت مل جائے تو ذریعہ بناتے ہیں نظریے کو پھیلانے کا۔اگر کردار انبیا ء کو دیکھاجائے تووہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اوراس کی عبادت کی دعوت دیتے رہے گویا بندوں کواللہ تعالیٰ سے روشناس کراتے رہے۔ وہ رسومات باطلہ کو مٹاتے اورظلم وزیادتی کے خاتمہ کے لیے محنت کرتے رہے ان کا بنیادی مقصد ملک گیری نہیں بلکہ ملکی اصلاح رہاہے۔
سلسلہ انبیا ء میں صر ف چند ایک ہیں جنہیں نبوت ورسالت کے ساتھ خلافت ارضی بھی عطاکی گئی ورنہ اکثریت کا مشن اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا اوران کی اصلاح کرنا رہاہے ۔نبی اقتدار نہیں مانگتے بلکہ اللہ کے نظام کی دعوت دیتے ہیں جب غیر کی جگہ اللہ کا نظام آگیا تونبی کا مشن پوراہوگیا۔اگر کوئی بادشاہ دین حق کو قبول کرلیتا ہے اس پر عمل پیر ہوتا ہے توپھر نبی کو تخت وحکومت کی ضرورت نہیں ر ہتی ہاں یہ الگ بات ہے جابر قسم کے بادشاہ انبیا ء کی دعوت سے خوف زدہ ہوکر اوراپنی بادشاہت کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے فوراًانبیاء پر ملک گیری کا جھوٹا الزام لگاتے رہے اورزور شور سے پرو پیگنڈاکرتے رہے۔
دیکھو اگر تم نے ان کی بات مان لی تویہ تمہیں ملک بدر کردے گا یہ تمہارے علاقوں کا مالک بن بیٹھے گا اور اپنا تسلط قائم کرلے گا۔ جب کہ انبیا ء کا مشن تخت وتاج پر متمکن ہونانہیں بلکہ انسانیت کی بھلائی اور اس کی اصلاح ہوتاہے خود حضور علیہ السلام کے زمانے میں کئی حکمرانوں نے اسلام قبول کیا توآپ ﷺ نے حکم دیا کہ حکومت انہی کے پاس رہنے دوہمارا مشن پوراہوگیااوراہل اللہ کا بھی یہی طریقہ رہاہے۔
سنت انبیاء پر عمل کرتے ہوئے بندوں کاتعلق خالق سے جوڑنے کے لیے تمام دنیا وی اغراض کی بیخ کنی کرتے رہے اوراخلاص سے انسانیت کی بھلائی کے لیے محنت کرتے رہے۔ اگر رسومات باطلہ کو مٹانے اورظلم وجور کوختم کرنے کے لیے جماعت کی ضرورت ہوتوپھر ایسی جماعت تیارکی جاتی ہے جو تبلیغ کے ذریعے اللہ کے دین کو دوسروں تک پہنچائے۔اسلام نے جس سرعت اورتیزی سے اپنی صداقت کا سکہ منوایا اس کی مثال کوئی دوسرامذہب پیش کر نے سے قاصر رہاہے دنیا دوسلسلوں سے واقف ہے۔
ایک ملکی فتوحات کا اوردوسرامذہب کی اشاعت وتبلیغ کااگر دونوں سلسلوں پر نظر ڈالیں تو دنیا کے پاس حقانیت اسلام تسلیم کرنے کے سواکوئی چارہ نہیں بہت سے ناواقف اورمتعصب دونوں سلسلوں کو آپس میں مدغم کرکے یہ الزام لگاتے ہیں۔ اسلام نے اپنے ذاتی محاسن اورخوبیوں سے لوگوں کو مطیع نہیں کیا بلکہ اسلام دنیا میں شمشیر سے پھیلامگر یہ دعویٰ سچائی اورراست بازی سے خالی ہے۔
مذہب اسلام نے وجود میں قد م رکھتے ہی اعلان کردیا تھا (دین میں کسی پر جبر نہیں )شریعت اسلام نے بزور تخویف کسی کومسلمان بنانے کی سخت ممانعت کی ہے نجران کے عیسائی جب مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے اورمصالحت کرکے جزیہ دینا قبو ل کیا تورسول اللہ ﷺ کی جانب سے عہد نامہ لکھا گیا اس میں مسلمانوں کی جانب سے اقرار تھا کہ نجران کے نصاریٰ کوکسی طرح تبدیلی مذہب پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
ان باتوں سے واضح ہوجاتاہے اسلام کے تیزی سے پھیلنے کے اسباب جبر نہیں بلکہ قرآن کا یہ پیغام لاجواب تھا ”تم بہترین امت ہوکہ لوگوں کے(نفع رسانی ) کے لیے نکالے گئے ہو،تم لوگ نیک کام کرنے کا حکم کرتے ہو اوربرے کام سے منع کرتے ہواوراللہ پر ایمان رکھتے ہو“اسلام دین فطرت ہے اورپوری انسانیت کی فلاح وبقا کاضامن ہے اس کاپیغام امن وسلامتی تمام انسانیت تک پہنچانا ہرہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
تبلیغ اسلام میں کشش ہے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں اسلام نے محض اپنے ذاتی محاسن سے پورے عالم میں رسوخ و مقبولیت حاصل کی جس سرعت کے ساتھ اسلام نے قلوب کو مسخر کیا۔ اس کی نظیر کو ئی دوسرامذہب یا فکر ونظر والا پیش کرنے سے قاصر رہے گاہم دور حاضر میں دیکھ لیں طاغوت کے پاس قوت ،طاقت ، اسلحہ ،مال ودولت سب کچھ ہونے ،خون کی ندیاں بہانے اوردنیا کوبھوک وافلاس میں مبتلاکرکے سرمایہ سمیٹنے کے باوجود انکے متبعین مغلوب ہورہے ہیں اوراسلام تیزی سے پھیل رہاہے۔ آج غیر بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں2050 تک اسلام دنیا کا سب سے بڑ امذہب بن جائے گا۔

Your Thoughts and Comments