Tazeem E Risalat SAW

تعظیم رسالتﷺ اورصحابہ کرام

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب محمد مصطفی احمد مجتبیٰ رحمت کائناتﷺ کو سراپا کمالات بنایا، نبی کریم محبوب خداﷺ کی شخصیت اپنی سیرت کے اعتبار سے بھی اور اپنی صورت کے اعتبار سے بھی بے مثل و بے مثال ہیں۔ جو لوگ آپ کے حلقہء تربیت میں شامل ہوئے

Tazeem e Risalat SAW
رضا الدین صدیقی:
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب محمد مصطفی احمد مجتبیٰ رحمت کائناتﷺ کو سراپا کمالات بنایا، نبی کریم محبوب خداﷺ کی شخصیت اپنی سیرت کے اعتبار سے بھی اور اپنی صورت کے اعتبار سے بھی بے مثل و بے مثال ہیں۔ جو لوگ آپ کے حلقہء تربیت میں شامل ہوئے، انھوں نے آپ کی ذات والاتبار سے محبت کے انمٹ نقوش ثبت کئے۔
وہ آپ کی شخصیت سے کس وارفتگی سے وابستہ تھے اس کا اندازہ صلح حدیبیہ کی درج ذیل حدیث سے ہو سکتا ہے۔
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں (واقعہ حدیبیہ کے موقع پر) عروہ بن مسعود کفار کی طرف سے وکیل بن کر بارگاہِ رسالت میں آیا، وہ وہاں پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے جذبہء عشق و محبت اور معمولات ادب و تعظیم کا مشاہدہ کرتا رہا، آپ جب بھی اپنا لعاب دہن پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ پر لے لیتا اور اسے بڑے احترام و مسرت سے اپنے چہر ے اور بدن پر مل لیتا، جب آپ کسی بات کا حکم دیتے تو اس کی فی الفور تعمیل کی جاتی۔

جب آپ وضو فرماتے تو لوگ آپ کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑتے (اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔ ہر ایک کی خواہش یہ ہوتی کہ یہ بابرکت پانی میں حاصل کر لوں)۔ جب آپ محو گفتگو ہوتے تو صحابہ کرام اپنی آوازوں کو آپ کے حضور میں پست رکھتے اور غایت تعظیم کے باعث آپ کے چہر ہ انور کی طرف نظر جما کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔

یہ سب کچھ ملاحظہ کرنے کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا: اے میری قوم! اللہ رب العزت کی قسم میں بڑے بڑے عظیم المرتبت بادشاہوں کے دربار میں وفد لے کر گیا ہو، مجھے قیصرِ روم، کسریٰ ایران اور نجاشی حبشہ جیسے بادشاہوں کے دربار میں حاضر ہونے کا موقع ملا ہے۔ لیکن خدا کی قسم میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ اس کے درباری اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد(ﷺ) کے اصحاب محمد(ﷺ) کی تعظیم کرتے ہیں۔
خدا کی قسم! جب آپ تھوکتے ہیں، تو ان کا لعاب دہن کسی نا کسی (عقیدت مند) شخص کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے ۔جس سے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے۔جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو اس کی بلاتوقف تعمیل کی جاتی ہے۔ جب وہ وضو فرماتے ہیں یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ وضو کا استعمال شدہ پانی حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ آپ کے رفقاء، آپ کی بارگاہ میں اپنی آوازوں کو انتہائی پست رکھتے ہیں اور غایت تعظیم کی وجہ سے ان کے چہرے کی طرف آنکھ بھر کے نہیں دیکھ سکتے۔ (بخاری، احمد)

Your Thoughts and Comments