21 Ramzan Yom E Shahadat Ameer Ul Momineen Hazrat Ali RA

21 رمضان یوم شہادت امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ

آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب ہے۔ اور آپ کا لقب حیدر ہے۔آپ کی پیدائش بعثتِ نبوی سے دس سال قبل کی ہے۔

21 Ramzan Yom e Shahadat Ameer Ul Momineen Hazrat Ali RA
ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے علاوہ صحابہ کرام میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سب سے افضل صحابی ہیں۔ آپ خلفائے راشدین میں سے چوتھے خلیفہ ہیں۔ آپ (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کی مدت چار سال نو ماہ اور کچھ دن ہے۔ آپ نے بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی اور داماد تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اپنی لاڈلی دختر کا نکاح علی بن طالب (رضی اللہ عنہ) سے کرنا ہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ بلند ترین اوصاف حمیدہ سے متصف تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک علی بن طالب رضی اللہ عنہ اس قدر اہم شخص تھے ۔رسول ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسی (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) تھے. لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا.( صحیح بخاری 4416 جلد 6)۔


مومنین کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت دین و ایمان کا تقاضا ہے۔ کیونکہ ان سے محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی دلیل ہے۔

کوئی شخص مومن کہلانے کا اس وقت تک حقدار نہیں ہے جب تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہ رکھے۔
پتا چلا کہ کچھ لوگ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں تو آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا:"اس ذات کی قسم جس نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا ! ان دونوں سے وہی محبت کرے گا جو فاضل مومن ہوگا ، اور ان دونوں سے وہی بغض و عداوت رکھے گا جو بدبخت اور مارق (بدمذہب) ہوگا ، کیونکہ ان دونوں کی محبت تقرب الٰہی کا سبب ہے اور ان سے بغض و نفرت رکھنا دین سے خارج ہونے کی علامت ہے۔
ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بھائیوں ، اور دو وزیروں ، اور دو ساتھیوں اور قریش کے دو سرداروں اور مسلمانوں کے دو باپوں کو نازیبا الفاظ سے یاد کرتے ہیں؟ میں ان لوگوں سے لاتعلق ہوں جو ان دونوں کو برے الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور اس پر انہیں سزا دوں گا۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لسانِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے شہید کا درجہ بھی عطا کیا گیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے ساتھ حراء کی ایک چٹان پر تھے کہ چٹان نے حرکت کی ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"آرام سے رہو ، کیونکہ تم پر نبی ، صدیق اور شہید کے علاوہ کوئی نہیں۔"
کوفہ میں نماز فجر کے وقت بدبخت عبدالرحمن ابن ملجم اور اسکے ساتھی شبیب ابن بجرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کاری زخم آیا تین دن بعد 62 سال کی عمر میں 21 رمضان المبارک 40 ہجری کو شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا اور کوفہ کے عزمی نامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

Your Thoughts and Comments