Adel E Azam Hazrat Mohammad SAW

عادلِ اعظم حضرت محمدﷺ

آج بھی اور جب بھی آپ کا جی چاہے تاریخ کے دریچوں کو جھانک کر دیکھ سکتے ہیں کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوہ ء حسنہ کو پیش نظر رکھ کر سلطنتوں کو استحکام بخشنے والے ایسے ایسے رول ماڈل گزرے ہیں

Adel e Azam Hazrat Mohammad SAW
پروفیسر ڈاکٹر محمد مزمل احسن شیخ:
آج بھی اور جب بھی آپ کا جی چاہے تاریخ کے دریچوں کو جھانک کر دیکھ سکتے ہیں کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوہ ء حسنہ کو پیش نظر رکھ کر سلطنتوں کو استحکام بخشنے والے ایسے ایسے رول ماڈل گزرے ہیں کہ جن پر تاریخ کو ناز ہے اور اْمت کو فخر۔ بنیادی حقیقت قرآن سنت کے نور سے منور اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے پیغام کی پیروی ہے ورنہ اس کے بغیر حال یہ ہوتا ہے کہ
شیطان ہے دل، جو نور ایمان نہ رہے
دشمن ہے زبان جو وردِ قرآن نہ رہے
یہ سنہری دور باآواز بلند ہم سے مخاطب ہے۔
تم کچھ نہ رہے اگر مسلمان نہ رہے اللہ کی بندگی کے سب سے اعلیٰ نمونے کے علمبردار سیدنا محمدﷺ کا معاملہ دنیا کے حاکموں سے مختلف ہے۔ آپﷺ کے پاس غلام اور کینزیں تقسیم کے لیے پیش کی جاتی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریک پر سیدة النساء فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ گھر کے معاون کے طور پر مجھے ایک باندی عطا فرمائی جائے۔

ان کے ہاتھوں کے گٹے اور کندھوں پر مشکیزے کے نشانات واضح تھے۔ اس کے باوجود رسول کریم ﷺ کی چہیتی بیٹی کو ابا جان رحمتہ للعالمینﷺ نے فرمایا۔ پیاری بیٹی! میں آپ کو باندی کیسے دے سکتا ہوں؟ ابھی تو دین کے طالب علموں اصحاب صفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ضروریات کا انتظام کر کے فارغ نہیں ہو سکا۔ ان غلاموں کو فروخت کر کے ان کی ضرورتوں کو پورا کروں گا۔
(ابو داوٴد، کنز العمال)
اس کے بعد پیاری بیٹی کو وہ وظیفہ عطا فرمایا جو تسبیح فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نام سے مشہور ہے ، اور جس کی برکت سے سب تکلیفیں دور ہو جاتی ہیں۔ سبحان اللہ 33 بار، الحمدللہ 33 بار، اور اللہ اکبر 34 بار قیامت تک یہ تحفہ ہر اُمتی کے لیے مشکل کشا وظیفہ ہے۔
عدل نہ غیر اسلامی ہوتا ہے نہ غیر جمہوری، عدل تو ایک اسلامی فلاحی ریاست کی آن بان اور شان ہوتا ہے۔
عدل سے ہی تو امن و امان کا قیام اور سلامتی و اسلام کا نظام جاری و ساری رہتا ہے، جس میں ہر ایک میٹھی نیند سوتا ہے۔
ذرا سوچیئے آج اُمت مسلمہ کی اکثریت ظالموں کے ظلم کی وجہ سے کس درجہ مجبور، مقہور اور معذور ہو چکی ہے کہ خودکشی تک نوبت پہنچتی ہے عدل کے حصول کے لیے اپنے آپ کو جلانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ جن بچوں اور بچیوں کی عزت پامال ہوتی ہے، جن بچیوں کی عصمتوں کو چُور چُور کیا جاتا ہے۔
کیا ان کی زندگی موت سے بدتر نہیں ہو جاتی؟ ایسے عہدے دار جو حاکم عوام اور خادم عوام کے لقب سے سرفراز ہیں، کل اللہ تعالیٰ کے دربار میں کیا جواب دیں گے؟ اور کس منہ سے حاضر ہوں گے جب کوئی چھڑانے، بچانے اور عذاب ہٹانے والا نہ ہو گا۔
آج ہم اپنے گناہوں کے نتیجے میں شامت اعمال سے گزر رہے ہیں بڑے بڑے سانحات کے باوجود تساہل، غفلت، رشوت خوری، بددیانتی اور غبن ہمارے روز مرہ گناہوں کا حصہ چلا آرہا ہے۔
بجلی، پٹرول گیس کے کمی بیشی ہو جانے کے باوجودسرکاری محکموں میں کرپٹ حضرات کی پکڑ نہیں ہو سکتی۔ رہی سہی کسر بے لگام میڈیا پوری کر دیتا ہے جب غربت، بیروزگاری، مفلسی، بے کاری اور معاشی بدحالی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا جاتاہے۔ ان تمام بیماریوں کا علاج امام ا لملک کے فرمان کے مطابق چودہ صدی قبل کے نبویﷺ فارمولے سے ہی ممکن ہے۔
خلافت راشدہ کے مبارک دور کے صولوں کی پیروی میں ہے ،جب انسان کے خون، جان اور عزت کی قیمت بہت اونچی تھی۔ رعایا کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار حکومت تھی۔ عوام کی بے روزگاری اور پریشانی کا بالکل خاتمہ ہو چکا تھا۔ ملک کا معاشی نظام نہایت اطمینان بخش اور معتدل رفتار سے رواں دواں تھا۔ بہترین نظم و نسق عوام کے مصالح اور مفادات کا ضامن تھا۔
عدل کا حصول انتہائی سہل تھا۔ حاکموں اور عہدیداروں کی رگ رگ میں امانتداری اور دیانتداری رچ بس چکی تھی۔ حکام، عامل اور اہل کار خویش پروری اور اقربانوازی کے نام سے بھی آشنا نہ تھے۔ وہ ایثار پسند، قناعت سے مزین اور انسانیت نواز تھے اور حقیقی معنوں میں خادمِ عوام حاکمِ عوام تھے۔
کسی نے خوب کہا ہے کہ
حجرہ نبویﷺ میں آ اور شان جمہوری دیکھ
غزوہ خندق میں جا اور شان مزدوری دیکھ
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جب کبھی عامل کے ظلم کی شکایت ملتی یا بیت المال میں خیانت کی تو اس کو برطرف کر دیتے۔
وہاں دوسرا عادل حاکم بھیجتے۔ آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر عرض کرتے ”آپ خوب جانتے ہیں اے اللہ! یقیناً میں نے ان کو رعایا پر ظلم کرنے اور بیت المال میں غصب یا نقصان کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اس لیے مجھے معاف کر دینا۔“
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے ”جس نے کسی شخص کو نااہل ہونے کے باوجود محض رشتہ داری یا دوستی کی بنیاد پر کسی عہدے پر مقرر کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولﷺ اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی۔

حدیث پاک کے مطابق ”امر وقت کا رعایا کے معاملے میں ایک دن عدل سے بسر کرنا اس عابد کے عمل سے جو پچاس سال بچوں میں رہ کر وہ عبادت سے حاصل کرتا ہے سے بہت بڑھ کر اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔“
اللہ کا فرمان سچا ہے ۔
ترجمہ : ”اور تم ہی اعلیٰ سربلند ہو گے بشرطیکہ تم مومن ہو۔“
ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچائیے۔ اللہ کا نظام نافذ کرنے میں جھجک نہ دکھائیے۔

ہم میں سے سیرت نبویﷺ کی مبارک روشنی میں یہ پیغام ہے کہ
بچھڑے ہوئے دلوں کو ملاوٴ تو بات ہے
اُجڑے ہوئے گھروں کو بساوٴ تو بات ہے
ہنستے ہووٴں سے ہنسنا ہنسانا کمال ہے
لیکن جو رو رہے ہیں انہیں ہنساوٴ تو بات ہے
ہے زندگی وہی جو ہو اوروں کے واسطے
دُکھ درد دوسروں کا بٹاوٴ تو بات ہے

Your Thoughts and Comments