Aik Raat Ki Ibadat

ایک رات کی عبادت

حضرت خواجہ خضرویہ رحمتہ اللہ علیہ ایک جلیل القدربزرگ گزرے ہیں ایک بار آدھی رات تک عبادت کرکے تھک گئے تو آرام کرنے کے لئے ذرا سالیٹ گئے نیم خوابی کی حالت تھی کہ کسی آواز سے آپ کی آنکھ کھلی دیکھا کہ ایک چور دیوار پھلانگ کر اترا ہے

Aik Raat Ki Ibadat
حضرت خواجہ خضرویہ رحمتہ اللہ علیہ ایک جلیل القدربزرگ گزرے ہیں ایک بار آدھی رات تک عبادت کرکے تھک گئے تو آرام کرنے کے لئے ذرا سالیٹ گئے نیم خوابی کی حالت تھی کہ کسی آواز سے آپ کی آنکھ کھلی دیکھا کہ ایک چور دیوار پھلانگ کر اترا ہے آپ خاموشی سے اس چور کی تمام حرکات دیکھ رہے تھے ‘ چور سمجھا آپ سورہے ہیں سودبے پاؤں آرام سے اپنے کام میں مگن ہر چیز کی تلاشی لی ‘ کمرے کے اندر گیا بہت ڈھونڈا کچھ نہ ملا مایوس ہو کر واپس جانے کاارادہ کیا اور چلنے لگا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اسے آواز دی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : اللہ کے بندے تمہیں بہت افسوس ہوا ہوگا جو ایسے گھر میں آئے جہاں سے نامراد ہوکر واپس جارہے ہو مگر میں نہیں چاہتا کہ یہاں سے تم خالی ہاتھ واپس جاؤ لوٹ کر آؤ کنویں سے پانی نکالوں وضو کر کے نماز ادا کرو ‘ اگر اس دوران اللہ کا کوئی بندہ کوئی چیز میرے لئے لے کر آیا تو وہ سب تمہارا ہوجائے گا ۔

چورحیران ہوا اور سوچا کہ کیا کروں سوچنے کے بعد دل میں کہا نماز پڑھنے میں میرا نقصان نہیں کوئی چیز آگئی تو لے جاؤں گا چانچہ وہ کنویں پر گیا وضو کیا اور نماز پڑھنی شروع کی یہاں تک کہ صبح ہوگئی صبح سویرے کسی نے دروازے پر دستک دی تو پتہ چلا حضرت کا کوئی عقیدت مند ہے چور نے دروازہ کھولا تو اس بندے نے آپ خواجہ خضرویہ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں 100 دینار پیش کئے آپ نے چور سے فرمایا : یہ رقم اٹھا لو ‘ تمہارا خالی ہاتھ واپس جانا مجھے بہت ناگوار گزرا تھا ۔
چور نے جھٹ سے کہا آپ رحمتہ اللہ علیہ کے فرمانے سے میں ایک رات نماز ادا کی ایک رات کی عبادت کا صلہ ایک سودینار کی صورت میںآ پ رحمتہ اللہ علیہ سے مل رہا ہے تو اللہ کتنا دے گا جو عمر ضائع ہوئی اس کا افسوس ہے آئندہ کے لئے توبہ کرتا ہوں کہ چوری نہیں کروں گا ۔ سچ ہے توبہ اور ندامت سے بعض لوگ ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ بڑے بڑے مقدس بھی وہاں نہیں پہنچ پاتے۔

Your Thoughts and Comments