Aik Shaks Ka Khary Hu Kr Khlifa Bnny Ki Drkhwast

ایک شخص کا کھڑے ہوکر خلیفہ بننے کی درخواست کرنا!

آپ علیہ السلام نے فرمایا تو دن میں روزہ رکھے گا اور رات کو قیام کرے گا اور غصہ بھی نہیں کرے گا اس نے کہا میں ایسا ہی کروں گا

Aik Shaks Ka Khary hu kr Khlifa Bnny Ki Drkhwast
ایک شخص کا کھڑے ہوکر خلیفہ بننے کی درخواست کرنا!
جب حضرت السیع علیہ السلام نے خلیفہ بننے کے لئے تین امور الازمہ کو بنادیا تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کی آنکھیں حقیر سمجھتی تھیں اس نے کہا یہ کام کروں گا آپ علیہ السلام نے فرمایا تو دن میں روزہ رکھے گا اور رات کو قیام کرے گا اور غصہ بھی نہیں کرے گا اس نے کہا میں ایسا ہی کروں گا۔
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ لکھتے ہیں:ایک ایسا شخص اٹھا جس کی آنکھیں حقیر سمجھتی تھیں اس نے کہا میں اس طرح کروں گا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا:تو دن میں روزہ رکھے گا،اور رات کو قیام کرے گا،اور غصہ بھی نہیں کریں گا۔اس نے عرض کیا،ہاں(یعنی میں یہ سب کروں گا)،
اس دن خلیفہ بننے والے شخص کو واپس فرمادینا! حضرت السیع علیہ السلام نے اس دن اس شخص کو واپس کردیا جس نے کہا تھا کہ میں خلیفہ ہوتا ہوں،امام ابو جعفر محمدبن طبری متوفی310 ھ لکھتے ہیں،آپ علیہ السلام نے اس دن اس شخص کو واپس کردیا،
دوسرے دن اس شخص کا کھڑا ہونا اور حضر ت السیع علیہ السلام کا خلیفہ بنادینا! حضرت السیع علیہ السلام نے دوسرے دن اسی طرح اعلان کیا جس طرح پہلے دن اعلان فرمادیا تھا تو اسی شخص کے علاوہ کوئی کھڑا نہ ہوا آپ علیہ السلام نے اس کا خلیفہ بنادیا،امام ابو جعفر محمدبن جریر طبری متوفی310 ھ لکھتے ہیں:حضرت السیع علیہ السلام نے دوسرے دن وہی اعلان فرمایا توتمام لوگ خاموش رہے لیکن وہ وہی شخص پھر کھڑا ہوا اور کہا میں آپ علیہ السلام کے حکم کی تعمیل کروں گا حضرت السیع علیہ السلام نے اسے خلیفہ بنادیا،
خلیفہ بننے والے شخص کے پاس شیطان کا بار بار آنا!
جب وہ شخص یعنی حضرت ذوالکفل علیہ السلام خلیفہ بن گئے تو شیطان روزانہ غصہ دلانے کے لئے بار بار آتا اور غصہ دلانے کی کوشش کرتا تھا،امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی310 ھ لکھتے ہیں،ابلیس نے اپنے چپلوں سے کہا فلاں کو لازم پکڑلو اس شخص نے تمام شیطان کو عاجز کردیا،ابلیس نے کہا،اب مجھے اور اسے تم چھوڑدو(میں خود اس اک بندوبست کرتا ہوں)ابلیس اس کے پاس ایک بوڑھے کی شکل میں آیا جبکہ وہ قیلولہ کرنے کے لئے بستر پر جاچکا تھا چونکہ وہ شخص دن اور رات کسی وقت نہیں سوتا تھا سوائے اس قیلولہ کے وقت کے ابلیس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔

اس شخص نے پوچھا:کون ہے؟اس نے کہا:ایک بوڑھا مظلوم؟وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا اور دروازہ کھول دیا بوڑھے نے بہت سی باتیں کیں میرا اور میری قوم کا جھگڑا ہے انہوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے انہوں نے مجھ پر زیادتی کی ہے وہ اتنی باتیں کرتا رہا کہ آرام کا وقت ختم ہوگیا۔اس خلیفہ نے کہا۔جب میں اپنے عدالت کے کمرے میں جاؤں تو تو آجانا میں تیرا تجھے حق دلاؤں گا بوڑھا چلا گیا خلیفہ اپنی مجلس میں تشریف فرماتھے اور اس بوڑھے کا انتظار کررہے تھے وہ نظر نہ آیا تو خلیفہ صاحب خود اس کی تلاش میں نکلے بوڑھا پھر بھی نظر نہ آیا،جب خلیفہ صاحب گھر تشریف لے گئے آرام کرنے لگے تو اس نے دروازہ کھٹکھٹایا خلیفہ نے پوچھا کون؟اس نے کہا بوڑھا مظلوم!خلیفہ نے پھر دروازہ کھول دیا۔
خلیفہ نے فرمایامیں نے تجھے کہانہیں تھا کہ جب میں مسندعدل پر بیٹھوں تو تو آجانا؟بوڑھے نے کہا جس قوم سے میرا جھگڑا ہے وہ بڑی خبیث ہے۔خلیفہ نے فرمایا:جب میں اپنے کام پر جاؤں تو تو آجانا اس روز قیلولہ کا وقت ختم ہوگیا خلیفہ صاحب مسند عدالت پر بیٹھے تو اس بوڑھے کو دیکھتے رہے لیکن وہ نظر نہ آیا آج خلیفہ کو نیند تنگ کررہی تھی شام کو جب مجلس عدل شروع ہوئی تو وہ بوڑھا نظر نہ آیا خلیفہ پر نیند غالب آرہی تھی۔
اس نے اپنے دربان کو کہا کہ کسی کو دروازہ کے قریب نہ آنے دینا تا کہ میں کچھ آرام کرلوں مجھے نیند بہت سخت آئی ہوئی ہے جب خلیفہ کے قیلولہ کا وقت تھا تو بوڑھا پھر آگیا محافظ نے اسے اجازت نہ دی جب بوڑھا عاجز ہوگیا تو اس نے روشن دان دیکھا اس نے دیوار پھلانگی اور روشن دان سے اندر داخل ہوکر دروازہ کھٹکھٹایا خلیفہ بیدار ہوا تو اس نے محافظ کو آواز دی اے فلاں میں نے تجھے کہا نہیں تھا کہ کسی کو اندر آنے دینا۔
محافظ نے کہا:حضور ادھر سے کوئی داخل نہیں ہوا دیکھو وہ کہاں سے آیا ہے؟خلیفہ نے دروازہ دیکھا تو واقعی بند تھا۔اس شخص نے کہا،لوگ تمہارے دروازے پر جھگڑے لیے آتے ہیں اور تم سوئے ہوئے ہو۔خلیفہ نے اس شخص کو پہچان لیا اور کہا تو اللہ کا دشمن(ابلیس)ہے،بوڑھے نے کہا ہاں تو نے مجھے عاجز کردیا اور میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا تاکہ تجھے غصہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ نے تجھے بچالیا ہے اس خلیفہ کو ذوالکفل کہا گیا کیونکہ اس نے جو ذمہ داری قبول کی تھی اس کو احسن طریقے سے نبھایا۔
امام ابو حاتم رحمة اللہ علیہ یہ روایت یوں نقل فرماتے ہیں،حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت السیع علیہ السلام بوڑھے ہوگئے تو انہوں نے کہا کاش میں کسی کو اپنی زندگی میں خلیفہ مقرر کردوں اور دیکھوں کہ وہ کس طرح عمل کرتا ہے پھر انہوں نے لوگوں کو جمع کرکے کہا جو شخص میری تین شرطیں پوری کرے گا میں اس کو خلیفہ بنا دوں گا فرمایا وہ دن کو روزہ رکھے رات کو نماز میں قیام کرے اورکسی پر غصہ نہ کرے ایک شخص کھڑا ہوگیا جس کو لوگ غیر اہم سمجھتے تھے اس نے کہا میں ایسا کروں گا حضرت السیع علیہ السلام نے اس دن کو لوٹا دیا دوسرے دن پھر اسی طرح فرمایا لوگ خاموش رہے اور وہ شخص پھر کھڑا ہوگیا اس نے کہا میں اس طرح کروں گا تو حضرت السیع علیہ السلام نے اس کو خلیفہ بنادیاپھر شیطان اس کو لغزش دینے کے لئے پہنچا اور وہ ان کے پاس اس وقت گیا جب وہ قیلولہ(دوپہر کے وقت آرام کرنے)کے لئے لیٹ گئے تھے وہ رات کو بالکل نہیں سوتے تھے اور دن کو اسی وقت سوتے تھے اس نے دروازہ کھٹکھٹایا انہوں نے پوچھاکون ہو؟اس نے کہا میں بوڑھا شخص مظلوم ہوں انہوں نے دروازہ کھولا تو اس نے کہا میرا کچھ لوگوں سے جھگڑا ہے انہوں نے مجھ پر ظلم کیا اور اب تک مارتے پیٹتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی اور دوپہر آگئی انہوں نے کہا تم شام کو میرے پاس آنا میں تمہارا حق ان سے لے کردوں گا،وہ مجلس میں گئے اور دیکھنے لگے کہ وہ بوڑھا شخص نظر آرہا ہے یا نہیں!انہوں نے اس بوڑھے شخص کو نہیں دیکھا دوسرے روز لوگوں کے درمیان فیصلہ کررہے تھے وہ اس بوڑھے کا انتظار کرتے رہے وہ نہیں آیا پھر وہ دوپہر کو اپنے گھر گئے اور سونے کے لئے بستر پر لیٹ گئے تو اس نے دروازہ کھٹکھٹایا پوچھا کون ہے؟اس نے کہا ایک بوڑھا مظلوم آدمی ہے انہوں نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ جب میں فیصلہ کے لئے بیٹھوں تم اس وقت میرے پاس آنا؟اس نے کہا وہ بہت خبیث لوگ ہیں جب انہوں نے دیکھا کہ آپ بیٹھے ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا ہم تمہیں تمہارا حق ادا کردیتے ہیں اور جب اٹھ کر چلے گئے تو پھر انہوں نے مجھے دینے سے انکار کردیا انہوں نے کہا اب تم جاؤ جب میں فیصلہ کے لئے جاؤں تو تم میرے پاس آجانا ان کا قیلولہ(دوپہر کا سونا)اس دن بھی رہ گیا دوسرے دن وہ پھر اس کا انتظار کرتے رہے وہ نہیں آیا ان کو اونگھ بہت ستارہی تھی انہوں نے اپنے گھروالوں سے کہا تم اس دروازہ کے قریب کسی کو مت آنے دینا حتیٰ کہ میں سوجاؤں کیونکہ مجھے بہت سخت نیند آرہی ہے وہ اسی وقت آگیا گھر والوں نے کہا پیچھے جاؤ اس نے کہا میں ان کے پاس کل آیا تھا اور میں نے ان سے اپنے معاملہ کا ذکر کیا تھا گھر والوں نے کہ انہیں خدا کی قسم انہوں نے ہمیں منع کیا ہے کہ کس کو میرے قریب نہ آنے دیناکیونکہ میں کئی دن سے سو نہیں سکا،جب وہ تھک گیا تو اسے گھر میں ایک روشن دان نظر آیا وہ اس میں سے گھر میں داخل ہوگیا اور کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا وہ بیدا ہوگئے اور کہا اے فلاں شخص میں نے تم کو حکم دیا تھا میں دیکھتا ہوں کہ تم آئے کہاں سے ہو انہوں نے دیکھا گھر کا دروازہ اسی طرح بند تھا جس طرح انہوں نے بند کیا تھا اور وہ شخص ان کے ساتھ تھا پھر وہ اس کو پہچان گئے کہ یہ شیطان ہے انہوں نے پوچھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے؟اس نے کہا تم نے مجھے پرداؤ میں ناکام کردیا میں نے جو کچھ کیا وہ تم کو غضب میں لانے کے لئے کیا تھا تب اللہ تعالیٰ نے ان کا نام کفل(ضامن)رکھا کیونکہ انہوں نے جس چیز کا ذمہ لیا تھا اس کو پورا کردیا۔

Your Thoughts and Comments