Aik Yahoodi K Ghusay Par

ایک یہودی کے غصے پر

حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے علماء میں سے تھے۔وہ بہت مالدار تھے۔وہ مسلمان ہو گئے تو تمام غزوات میں نبی ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ان کی وفات غزوہٴ تبوک کے سفر کے دوران ہوئی۔

Aik Yahoodi K Ghusay Par
حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے علماء میں سے تھے۔وہ بہت مالدار تھے۔وہ مسلمان ہو گئے تو تمام غزوات میں نبی ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ان کی وفات غزوہٴ تبوک کے سفر کے دوران ہوئی۔
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ(یہ بھی علمائے یہود میں سے تھے اور اسلام لائے تھے) روایت کرتے ہیں کہ جب زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ کو پہلی نظر میں دیکھا تو نبوت کی تمام نشانیاں پہچان لیں،مگر دونشانیاں نہ ملیں۔
ایک ان کا تحمل جو اُن کے غُصے پرحاوی ہوتا ہے۔ دوسری کسی نادان کی سختی اور درشتی پر تحمل کا زیادہ ہونا۔
حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اس کی تمنا تھی کہ کسی ذریعے سے آپﷺ سے کوئی معاملہ کروں تا کہ یہ نشانیاں بھی ظاہر ہوں۔
وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبیﷺ اپنے گھر سے باہر نکلے۔

اُن کے ساتھ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔

اتنے میں ایک دیہاتی سوار آیا اور اُس نے عرض کیا:
”یارسول اللہ! فلاں بستی کے لوگ مسلمان ہیں فاقے میں مبتلا ہیں۔آپﷺ مناسب سمجھیں تو ان کے پاس کچھ کھانے کا بھیج دیں۔“
آپﷺ نے فرمایا:
”میں ایسا ضرور کرتا،مگر میرے پاس اس وقت کچھ نہیں۔“
حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کہ یہ سن کر میں نبیﷺ کے قریب ہوا۔میں نے کہا:
”اے محمدﷺ !اگر آپﷺ چاہیں تو مجھ سے ابھی کچھ رقم لے لیں اور دوماہ بعد اس کے بدلے میں کھجوریں دے دینا۔

آپﷺ نے فرمایا: درست ہے۔
میں نے اُسی وقت آپﷺ کو اسی (80 )دینار دے دیے۔
حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب دو مہینے پورے ہونے میں صرف دو دن باقی تھے تو نبیﷺ کے پاس آیا۔آپﷺ اس وقت ایک جنازے کے لیے باہر نکلے۔
آپﷺ کے ساتھ ابوبکررضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے علاوہ چند صحابہ کرام بھی تھے۔

میں نے حضورﷺ کی قمیص اور چادر کو پکڑا اور غصے کی حالت میں آپﷺ کی طرف دیکھا اور کہا:
”اے محمد ﷺ! میرا حق دو۔اللہ کی قسم! تم قریش کے لوگ بڑے وعدہ خلاف ہو۔قرض اداکرنے میں ٹال مٹول کرتے ہو۔“
میں نے اسی طرح کی دو چار اور باتیں کیں۔
جب میری نگاہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر پڑی تو میں نے دیکھا کے غصے سے ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے دشمن! کیا تو نبی ﷺ سے اس طرح باتیں کہتا ہے جو میں سن رہا ہوں؟اللہ کی قسم! میں تیری گردن اُڑادوں گا۔
اس موقع پر نبی ﷺ نے بڑے اطمینان سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔پھر فرمایا۔
اے عمر رضی اللہ عنہ ،اس کے ساتھ جاکر اس کو اس کا حق ادا کردو اور بیس سیر کھجوریں زیادہ دینا،کیونکہ تو نے اُسے ہراساں کیا ہے۔

حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا اور اُنہوں نے میرا حق بھی ادا کردیا اور بیس سیر کھجوریں زائد دیں۔میں نے عرض کیا اے عمر رضی اللہ عنہ!کیا تمہیں معلوم ہے یہ سب کچھ میں نے کیوں کیا۔یہ اس لیے کہ میں محمدﷺ کی ساری نشانیاں پہچان چکا تھا،صرف یہی دو علامتیں باقی تھیں جو پہچان لیں۔تم گواہ رہو کہ میں نبی ﷺ پر ایمان لایا۔
حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضرہوکر اسلام قبول کرلیا۔

Your Thoughts and Comments