Apne Piyare Nabhi Pak SAW Ki Pakeeza Zindagi Main Dhaal Jayeen

اپنے پیارے نبی پاک ﷺ کی پاکیزہ زندگی میں ڈھل جا ئیں !

اگرہم لوگ آپﷺ کی ایک صفت سوچنے بیٹھ جائیں تو زما نے لگ جائیں۔آپﷺ کی ذات اور صفات کے بارے میں صرف اللہ پاک جانتا ہے۔ اسی لیئے اللہ نے اپنے نام کے ساتھ اپنے حبیب حضرت محمدﷺ کے نا م کو ہمیشہ کے لیئے جوڑ دیا

عمران محمود اتوار جون

Apne Piyare Nabhi Pak SAW Ki Pakeeza Zindagi Main Dhaal Jayeen
اپنی تحریر کا آغاز نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں دو اشعارسے کرتا ہوں:۔
میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
تیرا آستاں سلا مت میرا کام چل رہا ہے
کڑھی دھو پ کے سفر میں نہیں کچھ نصیر کو غم
تیرے سایہ کرم میں یہ غلا م چل رہا ہے
پیارے آقامحمد مصطفےٰ ﷺ تمام جہا نو ں کے لیئے رحمت بن کر آئے ، آپ ﷺ کی ذات و صفات بے مثال ہیں۔
تما م مخلوقات جن میں جو ہمارے علم میں مخلوقات ہیں جیسے انسان، فرشتے، جن ، چرند، پرند ، حیوانات، نباتات وغیرہ اور تمام دنیا کے قلم و سیا ہیا ں اکٹھی ہو جائیں، لیکن میرے نبی پاک ﷺ کی شان بیا ن کرنا نا ممکن ہے۔ اگرہم لوگ آپﷺ کی ایک صفت سوچنے بیٹھ جائیں تو زما نے لگ جائیں۔آپﷺ کی ذات اور صفات کے بارے میں صرف اللہ پاک جانتا ہے۔

اسی لیئے اللہ نے اپنے نام کے ساتھ اپنے حبیب حضرت محمدﷺ کے نا م کو ہمیشہ کے لیئے جوڑ دیا۔

آپ ﷺ کتنی عظیم ہستی ہیں کہ تمام کا ئنات کا خالق بھی ہر پل آپ ﷺپر درود وسلام بھیج رہا ہے، اور تما م فرشتے بھی یہی عمل کر رہے ہیں۔ شاعر نے بہت خوب کہا کہ:
پڑھ کہ دم کر دوں عقیدت سے جو ایک بار درود
شیر جنگل کے میرے پاؤں دبانے لگ جائیں
اتنے اوصا ف ہیں آقاﷺ میں کہ گنتی ہی نہیں
اک صفت سوچنے بیٹھوں تو زمانے لگ جائیں
ہم خوش قسمت ہیں کہ آپ ﷺ کی امت میں پیدا ہو ئے۔
اوراللہ پاک کا ایک اور بڑا احسان کہ ہم لو گ مسلما ن گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ ﷺ کی نسبت ، وسیلے اور یاد سے ہمیں حقیقی سکو ن نصیب ہوتا ہے اور ہمارے سب کام ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ آپﷺ ہی کی شفا عت سے ہماری بخشش ہو گی ورنہ ہمارے اعمال کسی قابل نہیں۔ لو گو ں کا دل توڑنا ہمارا ہر پل کا معمول ہے جب کہ آپﷺ دلو ں کو جوڑنے آئے، ہم سب جھو ٹ کا سہارا لیتے ہیں، بے ایمانی عروج پرہے، اورآپﷺ صادق و امین بن کر آئے، ہم ظلم کا ساتھ دے کر کمزوروں سے حق چھین رہے ہیں،آپﷺ ہمیں حقوق دینے آئے اور مظلوم کے ساتھ کھڑے رہے، ہم تاریکی اور ظلمت میں ڈوبے ہوئے، آپﷺ نور بن کر آئے۔
ہم بے سہارا ہو ئے، آپ ﷺ ہمارا سہارا بن کر آئے۔آپﷺ دن و رات میں اپنے اللہ کی یاد و عبادت میں قیام وسجود کرتے رہے، ہم اللہ کی یاد سے غافل ہو گئے۔ آپﷺ ہمیں سچ سکھا کر گئے، ہمارے جھوٹ نے ہمیں تباہ و ہلا ک کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کے غریب اور پسے طبقے کا بہت خیا ل رکھنا (حدیث کا مفہوم)۔ ہم نے غریبو ں اور پسے ہوئے لوگوں کو مزیدبے بس اور کمزور کردیا۔
آپﷺ نے ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہو نا کاحکم دیا، ہم ظالم کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ کاش ہم اتنی تو وفا کرتے کہ اپنے نبی ﷺ کی اداؤ ں اور کردار پر عمل کرتے۔ہمیں دولت، عہدوں اور شہرت نے آگھیرا۔ ہم اللہ کے سامنے کھڑا ہو نے کو بھول گئے۔ اپنے پیارے نبیﷺ کا سامنا کیسے کریں گے۔ ہم نے آپﷺ کی یاد کو بھلا دیا،اور آپﷺ ہمیں دنیا سے پردہ فرماتے ہو ئے بھی نہیں بھولے۔
امتی، امتی، امتی،یا اللہ میری امت پکارتے ہو ئے اپنے حقیقی رفیق اللہ سے جا ملے۔ہم کیسے عاشق رسولﷺ ہو نے کا دعویٰ کرتے ہیں جب کہ ہم نے اپنے نبی ﷺسے بے وفائی کر لی۔ کاش ہم تھوڑی تو وفا کر لیتے۔ ہم ختم نبوت جیسے اہم مسئلے سے بیزار ہو گئے، اپنی زندگیو ں میں اتنا مگن ہو گئے کہ اپنے شفیق نبیﷺ کو ہی بھو ل بیٹھے۔
بندہ عاجز نے کم وبیش 40خطوط لکھے جس میں اخبارات، سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت، اسلام نظریاتی کونسل، سارے صوبوں کے چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈز، سپیکر پنجاب اسمبلی، وفاقی وزیر تعلیم، وفاقی مذہبی امور، چیئرمین سینٹ، سپیکر قومی اسمبلی،اسلام آباد ہا ئی کو رٹ وغیرہ شامل ہیں۔
ان سب کو ایک خط لکھا اور عاجزانہ التجا کی جس کا متن یہ ہے کہ" کلاس اول سے لے کر آگے تما م کلاسوں کی نصابی کتا بو ں کے صفحہ اول پر لازمی طور پر یہ جملہ تحریر کروایا جا ئے کہ ، حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپﷺ کے بعد کو ئی نبی نہیں"یہ جملہ چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی با آسانی یاد کر سکتا ہے اور ہمیشہ کے لیئے اس کے ذہن میں نقش کر جا ئے گا۔

تمام اخبا رات سے بھی گزارش ہے اور باقی ذرائع ابلا غ سے کہ اپنے پیارے نبی ﷺ کی خاطراوردرحقیقت اپنی ہی کامیا بی کے لیئے اپنے حصے کا کردار ادا کریں، ہو سکتا ہے ہمارا یہ عمل ہماری بخشش کا باعث بن جائے، سب اپنے حصہ کا ایک قطرہ ہی اس نیک عمل میں ڈال دیں، یہ ہماری بخشش کا سا مان بن جا ئے گا۔ انشا ء اللہ۔
اپنے نبی ﷺکی پاکیزہ زندگی میں ڈھلنے کے لیے نماز قائم کریں، حق کا ساتھ دیں ، ظلم کے خلاف کھڑے ہوں، مظلو م کا ساتھ دیں، غریبو ں اور پسے ہو ئے بے بس لو گو ں کا ساتھ دیں، سچائی کو اپنائیں، اپنے نبیﷺ کو کثرت سے یاد کریں۔
حقو ق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھیں۔ ہمسایو ں کا خاص خیا ل رکھیں۔ یہ دنیا جانے والی ہے۔
ہمارے پاس زندگی گزارنے کے لیئے دوہی راستے ہیں، یا توہم مظلو م کا ساتھ دے کر حضرت حسین کے ساتھی بن جا ئیں، یا ہم ظالم کا ساتھ دے کر یزد لعنتی کے ساتھی بن جائیں۔ فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھو ں میں ہے۔میرے آقا ﷺ نے فرمایا "جو شخص کسی مظلو م کا حق دلا نے کے لیئے اس کے ساتھ چلے گا، اس کے ساتھ کھڑا ہوا گا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن پل صراط پر ثابت قدم رکھے گا جس دن بہت سے قدم لغزش کھا جا ئیں گے۔ (حدیث کا مفہوم)۔آئیں اپنی باقی زندگی اپنے نبی ﷺ کی غلامی میں گزارنے کا عہد کریں۔ اللہ ہمیں دنیا میں بھی کامیاب کرے گا اور آخرت میں بھی۔ انشا ء اللہ۔

Your Thoughts and Comments